بدقسمتی سے افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی متقی کے دورہ بھارت کے اثرات نے خطے میں پھر سے غیر معمولی حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ افغانستان کی طرف سے نہ صرف ٹی ٹی والوں نے دراندازی کی کوشش کی بلکہ طالبان کی طرف سے تعاون مہیا کیا گیا اور پاکستان پر یورش کر دی گئی۔ محافظوں نے اپنی سخت گیر پالیسی کے تحت بھرپور جواب دیا جس سے مخالف فریقوں کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ مجاہدین وطن چوکس ہیں اور یہ امربھی طے شدہ ہے کہ شرارت کا جواب اسی سختی سے دیا جائے گا جس کا سامنا مئی میں بھارت کو کرنا پڑا اور مودی ابھی تک زخم چاٹ رہا اور اسی رنجش کی وجہ سے اپنی پراکسیز کو زیادہ متحرک رکھنے کی کوشش کررہا تھا، بھارتی گوڈی میڈیا اور افغان طالبان کی طرف سے اسے باقاعدہ جنگ بنانے کی کوشش کی گئی جو پاکستان کے سپاہیوں نے ناکام بنا دی اور پہلے ہی عرصہ میں نہ صرف بھاری نقصان پہنچایا بلکہ سرحد کے اندر بعض چوکیوں پر عارضی قبضہ بھی کیا، چنانچہ عبوری حکومت کو سیز فائر کی درخواست کرنا پڑی۔ اب آج (17اکتوبر) کی شام چھ بجے تک طے شدہ جنگ بندی ہے۔
خبر یہ ہے کہ افغان عبوری حکومت اور پاکستان کی اس لڑائی سے تمام مسلمان ممالک کو تشویش پیدا ہو گئی،ایران، قطر اور سعودی عرب نے باقاعدہ اظہار کیا اور فریقین سے تحمل کی اپیل کی اسی سلسلے میں سعودی عرب اور قطر نے سفارت کاری کی جس کے نتیجے میں فی الحال عارضی جنگ بندی ہوئی اور انہی دونوں اسلامی ممالک کی وساطت سے پاک، افغان مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ یہ کوشش کامیاب فرمائیں اور افغان بھائی بھی سمجھداری کا ثبوت دیں تاکہ خطے میں نہ صرف امن برقرار رہے بلکہ دونوں ممالک ترقی کی طرف بھی گامزن ہوں۔ پاکستان نے تو سی پیک ٹو اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ افغانستان کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی ہے حتیٰ کہ وسطی ایشیا سے ریل کے رابطے اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے بھی افغانستان کو شامل کیا ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے افغانستان کو تجارت میں بہت آسانی ہوگی، اس کے باجود افغانستان کی طرف سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا جیسا متوقع تھا۔
یہ کوئی نئی بات یا نیا قصہ نہیں کہ پاکستان کو غیر ملکی سرپرستی میں دہشت گردی کا سامنا ہے ہمارے بہادر نوجوانوں کا غیر ملکی آشیرباد اور سرمایہ سے پھلنے پھولنے والی باغی تنظیموں اور دہشت گردوں سے واسطہ ہے۔ مسلح افواج بہادری اور دلیری سے خوارجین اور بھارتی وظیفہ یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں، اسی لئے عبوری افغان حکومت کے وزیرخارجہ کا دورہ بھارت، ان کی وہاں سرگرمیاں اور گفتگو نے یہ نئی صورت حال پیدا کر دی ہے جس سے بہادر اور جاں نثار مجاہد برسرپیکار ہیں اور دشمنوں، حریفوں کو زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اس ساری صورت حال میں دکھ یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی بھی اپنے عمل کے حوالے سے ان دہشت گردوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی طرف سے روایات کو روند کرخلاف قاعدہ طور پر جس طرح گنڈا پور کی جگہ ”چیتے“ سہیل آفریدی کو منتخب کرایا اور نو منتخب وزیراعلیٰ نے اپنی نامزدگی پر ہی بڑی باتیں کہیں اس سے بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا، اس مسئلہ کو عدالت تک لے جایا گیا اور عدالت نے جس قدر تیزی سے مطلوبہ ریلیف دی وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بہرحال بلاول بھٹو نے صورت حال کو سنبھالا اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو پشاور بھیج دیا اور انہوں نے حلف بھی لیا، افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی تحریک انصاف نے اپنا انتشاری عمل جاری رکھا اور گورنر ہاؤس کے باقاعدہ انتظامات کے باوجود لان ہی میں حلف پر زور دیا اور یہ حلف کارکنوں کی زبردست دھکم پیل میں پورا کیا گیا اور پھر جو تماشہ ہوا اس سے کئی معززین گر پڑے اور تحریک انصاف کا عمل ظاہر ہو گیا۔
پاک افغان کشیدگی، کے پی میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی، بھڑکیں اور پھر عمران خان کے بالواسطہ بیان نے بھی ایک نئی صورت حال پیدا کر دی ہے، بلکہ عمران خان کے پیرول پر رہائی کے مطالبے اور اس موقف نے کہ وہ باہرآ کر پاک، افغان تنازعہ اور دہشت گردی کا مسئلہ حل کر دیں گے بلکہ ان کے اس بیان میں افغان مہاجرین کی واپسی کی بھی مخالفت کی گئی اور یوں سہیل آفریدی کا پہلا جذباتی خطاب بھی شامل ہو گیا، اب صورت حال واضح ہے اور خود عمران خان سرکاری موقف کی تائید کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا باعث ہیں اب وہ یہ فرماتے ہیں کہ چالیس سال سے رہائش پذیر لوگوں کو واپس بھیجیں گے تو ان کو رنجش تو ہوگی۔محترم عمران خان جیل میں سزا بھگت رہے ہیں، ان کی طرف سے وکلاء اور بہنیں شکایات کرتی رہتی ہیں، لیکن ان کا آفیشل X اکاؤنٹ بحال ہے جبکہ وکلاء اور ان کی ہمشیرگان بھی ملاقات کے بعد ان کے بیانات جاری کرتی ہیں جو چھپتے او رنشر بھی ہوتے ہیں۔
حالیہ حالات میں حکومت اور ریاست کے فرائض میں کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور ہمارے فوجی جوانوں کی روزمرہ قربانیاں بھی نظر آ رہی ہیں ایسے میں ملک کے اندر مفاہمتی فضا اور استحکام کا ہونا ضروری ہے جو نظر نہیں آ رہا، عمران خان اور ان کی تحریک انصاف مسلسل سر درد بنی ہوئی ہے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے جبکہ پنجاب میں ٹی ایل پی کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا ہے، میں اس حوالے سے اپنی رائے دے چکا ہوا ہوں کہ سنجیدہ فکر حضرات کی نظر میں سارا ایشو الجھ گیا ہے۔ میرے خیال میں تو اس میں بھی کوئی باریک نقطہء شامل ہے جس کا اظہار چیف جسٹس (ر) قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے اپنے فیصلے میں کیا تھا، مسئلہ پیچیدہ بھی ہے لیکن خیریت یہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کی ثقہ جماعتوں اور علماء نے اسے لانگ مارچ سے اتفاق نہیں کیا، البتہ اموات اور زخمیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔
یہی وہ خصوصی حالات ہیں جن کی وجہ سے بدھ کے روز ایوان صدر غیر معمولی سرگرمیاں کا مرکز بنا رہا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی طویل ملاقات کے بعد وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کے وفد نے بھی ملاقات کی اور اس دوران وزیراعظم نے صدر سے علیحدگی میں بھی مشورہ کیا، ان ملاقاتوں کے حوالے سے سرکاری پریس نوٹ نشر ہو چکے تاہم میرا یقین ہے کہ یہ سب بہتر ہوا اور اتحادی جماعتوں کی تلخی ختم ہو گی، صدر کو مکمل طور پر یقین دلا دیا گیا کہ آئندہ مکمل مشاورت ہوگی۔ اسے خوش آمدید کہتے ہوئے عرض گزار ہوں کہ ہنگامی نوعیت کے باعث تمام سیاسی جماعتوں اور عناصر کے درمیان بھی یہ عمل ہونا چاہیے۔

