صوبائی حکومت نے بڑی سوچ بچار اور تاخیر کے بعد پتنگ بازی کی اجازت دے دی اور ایک آرڈیننس کے ذریعے پابندی کا حکومت منسوخ کرکے بعض سخت شرائط عائد کرنے کے بعد اجازت دی ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس پابندی کے ختم ہونے کے حوالے سے آرڈیننس کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کرلیا جائے جو ایسے ہیں کہ اگر انہی کے مطابق یہ کھیل ہوتا رہتا تو نہ تو گردنیں کٹتیں نہ ہی ٹرانسفارمر اڑتے اور بجلی بار بار فیل ہوتی، نئے آرڈیننس میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ پتنگ بنانے، فروخت کرنے والوں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی اور وہ پابند ہوں گے کہ دھاگہ والی ڈور ہی فروخت کریں جسے نقصان دہ مانجھا نہ لگا ہو۔ آرڈی ننس کے تحت یہ پابندی بھی ہے کہ 18سال سے کم عمر نوجوان پتنگ بازی نہیں کریں گے اگر ایسا ہوا تو سزا والدین کو ہوگی کہ وہ ذمہ دار ہوں گے، قانون و قواعد کی خلاف ورزی پر تین سے پانچ سال تک قید،20لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا،18سال سے کم عمر بچے کو پہلی خلاف ورزی پر 50ہزار روپے اور پھر ایک لاکھ روپے جرمانہ کے علاوہ قید کی سزا ہو گی۔
پتنگ بازی ایک کھیل تھا جو خصوصاً پنجاب سے موسوم رہا، یہ کھیل بسنت کے تہوار کے ساتھ منایا جاتا، چھتوں اور میدانوں میں پتنگیں اڑائی جاتیں اور باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے۔ لاہور کے منٹو پارک (حال اقبال پارک) میں کرکٹ کلبوں کے نیٹ کے قریب باقاعدہ پیچ لڑانے کے فن کا مظاہرہ ہوتا،ایسا ہی شہر کی چھتوں پر بھی ہوتا تھا، خصوصاً بسنت کے روز تو پورا آسمان پتنگوں سے بھرا نظر آتا اور بوکاٹا،بوکاٹا کی آوازیں سنائی دیتیں، اس دور میں حادثات تو ہوتے لیکن گردن نہیں کٹتی تھی کہ ڈور ٹوٹنے والی ہوتی تھی۔ مانجھا بھی معقول لگایا جاتا، حادثات چھتوں سے گرنے یا سڑک پر پتنگ پکڑنے کے لئے بھاگتے ہوئے کسی سواری کے ساتھ ٹکرانے سے ہوتے تھے۔
پھر وہ دور آیا جب بسنت کو ایک فیسٹیول بنایا گیا اور نائٹ بسنت شروع کر دی گئی، غیر ملکی مہمان بھی مدعو کئے گئے بڑی بڑی دعوتیں شروع ہوئیں، ہوٹلوں اور بڑی حویلیوں کی چھتوں پر باربی کیو ہوتا یہ سلسلہ کچھ دیر چلا تاہم پہلی قباحت برقی رو کے انقطاع کی ہوئی جب بعض ”لٹیرے بچوں“ نے پتنگ چمٹا کر لوٹنے کے لئے نئی اختراع ایجاد کی اور اپنی چھوٹی سی پتنگ کے ساتھ اگلے حصے میں لوہے کی پتلی سی تار کا ٹکڑا لگانا شروع کر دیا، یہ ٹکڑا جب بھی بجلی کی ترسیل والی تاروں سے ٹکراتا تو دھماکہ ہوتا اور گرڈ سے بجلی ٹرپ کر جاتی اور ایسا بار بار ہوتا کہ نائٹ بسنت کے لئے بحالی لازم تھی دن میں بھی کئی بار بجلی ٹرپ کرتی اور چھتوں پر گیت رُک جاتے اگرچہ یہ تہوار ایک روزہ ہوتا لیکن پتنگ بازی پہلے اور بعد میں بھی جاری رہتی عموماً چھٹی کے روز نیم بسنت کا سلسلہ نظر آتا، یہ سلسلہ جاری تھا کہ اس میں خون شامل ہوا، جو لالچ کا شاخسانہ تھا، اکثر حضرات نے دھاگے کی بجائے موٹی تندی اور نائیلون کی تار کو سخت شیشے والا مانجھا لگا کر ڈور بنانا شروع کر دی اور اس ڈور سے یہ کھیل خون رنگ ہو گیا۔ خصوصی طور پر موٹرسائیکل سوار حضرات کی گردن کٹنے لگی کہ نائیلون کے دھاگے اور تیز مانجھے کی وجہ سے ڈور ٹوٹتی نہیں تھی اور گلے میں پھر کر شہ رگ تک کاٹ دیتی تھی۔ ابتداء میں موٹرسائیکلوں پر لوہے کے راڈ لگانے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن یہ ہر ایک نہ کر سکا اور حادثات ہوتے چلے گئے آخر کار عمل کا ردعمل ہوا، میتوں کو چوراہوں میں رکھ کر مظاہرے شروع کئے گئے اور مطالبہ زور پکڑتا گیا چنانچہ لالچ اور بے حسی والوں نے اس تہوار کے اس کھیل کی جڑ اکھاڑ دی حکومت کو پابندی لگانا پڑی اس پابندی کے بعد یہ کام بھی چوری چوری شروع رہا اور کبھی کبھار گلا کٹنے کی خبر ملتی رہی۔
بتایا گیا ہے کہ پچھلے دنوں کسی کی طرف سے پنجاب سرکار کو بسنت فیسٹیول کو پھر سے شروع کرنے کی تجویز دی کہ اس سے جہاں لوگوں کا شوق پورا ہوتا ہے وہاں اس تہوار کی وجہ سے غیر ملکی بھی متوجہ ہوتے ہیں، بعض تحفظات پربات کرنے کے بعد یہ تجویز منظور کرتو لی کہ سخت نگرانی میں یہ تہوار منایاجائے لیکن اسی عرصہ میں پھر گلا کٹا اور یہ تجویز سرد خانے کی نظر ہوئی لیکن اب احساس ہوا کہ یہ وقتی التواء یا تاخیر تھی فیصلہ موجود تھا اب جو آرڈی ننس آیا، اس کے مطابق تحفظات تو یقینا مدنظر رکھے گئے ہیں لیکن سماجی ماحول پر نگاہ نہیں ٹھہری۔ حکومت نے جو شرائط مقرر کی ہیں اگر ان پر عمل ہوا تو بسنت کم تر ضرر رساں ہو سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہ ہوگا کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک ازخود ٹریفک قواعد کی پابندی سے گریز کر رہا ہے اور بھاری جرمانوں کے باوجود خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ 18سال عمر والی پابندی عائد کرکے سماجی انداز اور مزاج کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ بڑے تو پہلے بھی عمل کر ہی لیتے تھے اصل مسئلہ یہ بچے اور نوجوان تھے، حکومت کے خیال میں 18سال سے کم عمر پر پابندی کے باعث یہ کھیل صاف ستھرا ہو سکے گا، تاہم یہ بات پوری درست نہیں، بچوں کا کھیل ہے وہ تو کھیلیں گے اور پھر پکڑ دھکڑ اور اہل کاروں کو بھی نیا کھیل اور آمدنی کا ذریعہ مل جائے گا، حکومت کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ بسنت فیسٹیول کے لئے ڈپٹی کمشنر کو اطلاع دینا اور اجازت لینا ہوگی اور ڈپٹی کمشنر مخصوص ایریا بھی متعین کر سکیں گے، اس کے باوجود پرانا سلسلہ شاید نہ رک سکے کہ وہ سستا ترین ہے اور پھر 18سالہ عمر والی پابندی بھی کام نہیں آئے گی، آرڈی ننس کی جو شرائط اور منشاء ہے وہ پوری نہ ہو سکے گی کہ ہمارے معاشرے کا شعور اتنا بلند نہیں، اگر ایسا ہوتا تو پابندی ہی نہ لگانا پڑتی، اس لئے بہترہو گا کہ ماضی کاسارا عمل دیکھ لیا جائے اور اپ رائٹ قسم کے اعلیٰ سرکاری افسروں اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے بھی مشور کرلیا جائے، یوں بھی گردن بچانے کے لئے راڈ کی نصیحت بھی عجیب ہے کہ اب صرف موٹرسائیکل ہی نہیں سکوٹیاں بھی چل رہی ہیں جن پر راڈ لگانے کی گنجائش نہیں، بہتر ہوگا اس آرڈی ننس پر عمل شروع ہونے سے قبل ان سب خامیوں پر بھی غور کرلیا جائے۔

