قائمقام سپیکر نے دو ارکان کی رکنیت معطل کر دی
پنجاب اسمبلی کے قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے حکومتی رکن حسان ریاض کو تھپڑ مارنے والے اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر اور شیخ امتیازکی رکنیت اسمبلی اجلاس کی 15 نشستوں کے لۓ معطل کر دی۔ پنجاب اسمبلی کااجلاس دو گھنٹہ19 منٹ کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر ملک ظہیر اقبال کی صدارت میں شروع ہوا۔اپوزیشن نے اجلاس کے آغاز پر ہی ایک بار پھر احتجاج شروع کردیا ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے، حکومتی ارکان کی بھی جوابی نعرےبازی،اپوزیشن کی جانب سے ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے ظالم تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے کے نعرے لگائے گئے،اس موقع پر پارلیمانی وزیر میاں مجتبی شجاع الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رولز 232کے تحت اسمبلی کو چلائیں گے،پہلے کم تصاویر لاتے رہے اب زیادہ تصاویرلے کے آئے ہیں یہ میرا اعتراض ہے،ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو جس طرح جعلی گواہیوں پر سزا دی گئی اس کی مثال پنجاب کی تاریخ میں نہیں ملتی،احمد خان بھچر نے اسمبلی میں روایات سے وقت گزارا ہے، سیشن کی کارروائی روک کر اجازت دی جائے ہم ملک احمد خان بھچر سے اظہار یکجہتی کر سکیں،ہم نے پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو خط لکھا ہے،خط میں لکھا ہے کہ جس تیزی سے کیسز چلا رہے ہیں صبح نو سے رات تین بجے تک کورٹ چلتا ہے جس میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کا کہنا تھا کہ عندلیب عباس، فردوس عاشق اعوان، مراد راس، فیاض الحسن چوہان سمیت کئی نامور لوگوں نے پریس کانفرنس کی اور مقدمہ سے بری ہوگئے،اپوزیشن رکن رائے اعجاز کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ہمارے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی گئی وہ افسوسناک ہے،میاں مجتبی شاع الرحمن نے جواب میں کہا کہ احمد خان بھچر ہمارے بھائی ہیں کچھ غلطی پر عدالت نے سزا دی اس پر کچھ نہیں کہوں گا سزا ہم نے نہیں عدالت نے دی ہے۔ حکومت نے کبھی نہیں چاہا کسی کو سزا ملے نو مئی پر کورٹس نے فیصلہ دیا ہے۔ سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم عدالتی فیصلہ پر احمد خان بھچر کے معاملہ پر بحث نہیں کروا سکتے، مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور احمد خان بھچر سے اظہار یکجہتی کیا، سابق ادوار کی روایات کو دفن کردیں،جس پر پارلیمانی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم ہی صحیح سیاسی جماعت ہیں پرانی روایات کا خاتمہ کریں گے،اگر انہیں موقع مل گیا تو یہ ہمیں دیوار سے لگا دیں گے،جواباْ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر مجتبیٰ شجاع الرحمن ڈس کوالیفائی ہوئے تو ہم بھی ان پر بات کرنے کی اجازت دیں گے، جس پر قائم مقام سپیکر نے کہا کہ آپ مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ڈس کوالیفائی نہیں کروا سکیں گے،سابق اپوزیشن لیڈڑ احمد خان بھچر سے قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن ممبران کو بات کرنے کی اجازت دیدی،اپوزیشن رکن طیب راشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ احمد خان بھچر کو گرفتار کرکے پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی،ہم ریاست کے ممبر ہیں اگر ایک ممبر کو سزا ہوتی ہے تو ریاست کو سزا ملتی ہے،احمد خان بھچر کی گرفتاری جمہوریت کے جنازہ کے مترادف ہے، اگر حمزہ شہباز کی گرفتاری کی گئی تھی تو وہ بھی غلط تھی،احمد خان بھچر کو سزا حکومت کو آئینہ دکھانے کی سزا دی گئی،اپوزیشن رکن طیب راشد کی حکومت پر تنقید سے وزیر برائے پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن غصہ میں آ گئے، جس پر انہوں نے نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا کر دل کی بھڑاس نکال لی، ان کا کہنا تھا کہ احمد خان بھچر نے ریاست پر حملہ کیا ہے انہوں نے میانوالی میں افواج کے تنصیبات پر حملہ کیا تھا، عدالت نے فیصلہ کیا ہے اس کو حمزہ شہباز کیس سے نہ ملائیں باتیں نہ سنائیں تلخی پیدا نہیں کرنا چاہتا، کورٹ فیصلہ کرے گی ان میں اخلاقی جرات نہیں ہے، رولز 232 کے تحت اسمبلی چلانے کی بات ہوئی، وقت بدلے گا تو ان کا لیڈر کسی کی نہیں سنتا شہبازشریف کو سزا دو جیل میں کیمرہ لگاؤ گھر گرا دو کسی کا گھر نہیں گرایا نہ گرفتار کروایا، ہماری لیڈر شپ نے کبھی نہیں کہاکہ پنکھا بند کروا دیں گے اے سی ٹی وی بند کروا دیں گے کسی نے کہا مٹن قیمہ ایکسرسائز مشینیں بند کروا دیں گے تنگ نہیں کیا،
ان کے لیڈر نے ملک کا دیوالیہ نکالا تھا ریاست پر حملہ کروا کر معصوم لوگوں کو جیل میں بند کروایا،یہ کہتے مہنگائی بڑھ گئی چالیس فیصد والی مہنگائی سات فیصد پر آ گئی ہے، اپوزیشن رکن علی امتیاز وڑائچ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی یہ ہے ہمارے ممبرز سے کیا ہورہا ہے احمد خان بھچر ڈیڑھ سال ہمارے ساتھ رہا،ہمت دکھائیں اسے سزا پی ٹی آئی کو خود کا حصہ ماننے پر سزا دی گئی، صوبائی وزیر قانون صہیب بھرت نے جواب میں کہا کہ احمد خان بھچر کو سزا ہم نے نہیں دی بلکہ عدالت سے سزا ہوئی ہے اگر سزا ہوئی تو سپریم کورٹ کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر ہمارے کامیاب اچھے ہوں گے تو لوگ ہمارا فیصلہ خود کر لیں گے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کوئی کسی شخص کے بارے میں نہیں بتا سکتا کہ کسی کا وضو ہے یا نہیں قرآن آتا ہے یا نہیں، ہم اس پر ٹوکن بائیکاٹ کررہے ہیں کیونکہ ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے،اپوزیشن نعرے بازی کرتی ہوئی ایوان سے بائیکاٹ کر گئی۔ اسمبلی میں حکومتی رکن امجد علی جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ڈاکٹر باہر سے دوائی نہیں لکھ رہاکیونکہ اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے ہتھکڑی لگا دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کا اچھا فیصلہ تھا اس کے بہتر نتائج آ سکتے تھے، اگر حکام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کرتے تو ثمرات عوام تک پہنچ سکتے تھے،ہمارے اوپر فیصلوں کو عمل درآمد کروانے والوں نے مریم نواز کے حکم کی شکل بگاڑ کر عوام کو ایک عذاب میں مبتلا کردیا ہے،سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے باہر سے ادویات نہ لکھنے پر بچے اور بڑے سسک سسک کر مرنا شروع ہو گئے ہیں، ڈاکٹرز متبادل ادویات نہیں لکھ سکے اور ساہیوال میں چھ لوگ مر گئے،مرنے کے قریب ڈاکٹرز دوسرے ہسپتال بھجوا دیتے ہیں۔ سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی گفتگو کے دوران اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر اپنی سیٹ سے اٹھ کر حکومتی رکن کی جانب بڑھے، اور حکومتی رکن حسان ریاض پر حملہ کرتے ہوئے منہ پر تھپڑ مارا، وزیر قانون صہیب بھرت،صوبائی وزیر عاشق کرمانی، معین قریشی بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کرتے رہے،قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے معاملہ کو حل کروانے کیلئے پنجاب اسمبلی کااجلاس پانچ منٹ کیلیے ملتوی کردیا،حکومتی رکن اسمبلی احسان ریاض اور اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار کے مابین اچانک ہاتھا پائی ہوئی ایک دوسرے کو آواز کسنے پر ہاتھا پائی ہوئی۔ اس موقع پرصوبائی وزیر ذیشان رفیق بھی ہاتھا پائی میں کود پڑے،قائم مقام سپیکر نے حسان ریاض اور ذیشان رفیق کو بار بار منع کیا ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کو تھپڑ رسید کردییے،اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی ایک دوسرے پر چڑھائی تھپڑوں کی بارش کردی حکومتی رکن حسان ریاض پی پی 136شیخوپورہ جبکہ خالد زبیر نثار پی پی 231 وہاڑی سے ہیں، پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ہونے والی ہاتھا پائی پر قائمقام سپیکر کی سینئر حکومتی ارکان کے ساتھ مشاورت کے دوران سینئر حکومتی ارکان نے قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کے سامنے موقف پیش کیا اور کہا کہ اپوزیشن کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے، نعرے بازی برداشت کی جا سکتی ہے مگر ہاتھاپائی ناقابل برداشت اور غیر جمہوری رویہ ہے،اس دوران قائم مقام سپیکر نے اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر اور حکومتی رکن حسان ریاض کو اپنے چیمبر میں بلالیا۔قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے ایک بار پھر حکومت و اپوزیشن ارکان کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا، اپوزیشن ارکان کی جانب سے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی، علی امتیاز وڑائچ، ندیم قریشی، فرحت عباس سپیکر چیمبر میں موجود ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے مجتبیٰ شجاع الرحمن، صہیب بھرتھ،عاشق کرمانی، ذیشان رفیق بھی قائمقام سپیکر کے چیمبر میں موجود ہیں، اس موقع پر حکومتی رکن حسان ریاض اور اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر نے بھی اپنے اپنے موقف قائمقام سپیکر کے سامنے پیش کئے، حکومتی رکن کی جانب سے انتہائی نازیبا الفاظ کااستعمال کیا گیا جس پر معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ بیس منٹ کے وقفے کے بعد سے دوبارہ قائمقام سپیکر کی صدارت میں شروع ہوا،ایوان میں پارلیمانی وزیر یاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک افسوسناک واقعہ ایوان میں ہواحکومت اور اپوزیشن دونوں اس کی مذمت کرتے ہیں چیئر رولز اور ریگولیشن کے مطابق فیصلہ کرے یہ مقدس ایوان کا معاملہ ہے،مقدس ایوان کے تقدس کی بات ہے یہی کہوں گا کہ رولز اینڈ ریگولیشن کے مطابق قائمقام سپیکر ہی فیصلہ کر سکتے ہیں، یہ بہت ناخوشگوار واقعہ ہے کوئی آپکی سیٹ سے اٹھ کر حملہ کرے مارے اور گالیاں دے، نہ احسان ریاض کا معاملہ نہ ڈوگر صاحب کا معاملہ ہے ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے آپ فیصلہ دیں تاکہ ممبر ایسا کام نہ کر سکے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی ذاتیات نہیں ہے،ہم اس کو ذاتیات کی طرف نہ دھکیلیں سپیکر ملک احمد خان نے کہا تھا کہ اس طرح کا معاملہ ہو تو اس کو اخلاقی کمیٹی میں بھیج دیا جائے،گالی دینا یا بری زبان استعمال کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ قائم مقام سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ممبر اپنی سیٹ سے اٹھتا ہے اور حکومتی رکن پر جاکر حملہ کرتا ہے میں آج کے دن کو سیاہ دن کے طور پر دیکھتا ہوں،آپ نے سپیکر ملک محمد احمد خان کے ساتھ بیٹھ کر کہا تھا اب دوبارہ واقعہ نہیں ہوگالیکن دوبارہ حملہ ہوا جو بدترین مثال ہے، سپیکر ملک محمد احمد خان کی رولنگ کو نہیں چھیڑوں گا بلکہ اس پر عمل کروں گا،کسی کو اجازت نہیں دوں گا ایک ممبر دوسرے پر حملہ کرے،تمام معاملات طے پائے اس کے باوجود آج یہ ہوامجھے جو رولز اجازت دیتے ہیں میں اسی پر رہوں گا،آج بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے یہ کوئی سبزی منڈی ہے، پنجاب میں اور پوری دنیا میں کیا میسج گیا ہوگا،بڑی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے، مجھے پتہ ہے مجھے کیا کرنا ہے،میں رول دو سو دس کے تحت خالد نثار ڈوگر اور امتیاز شیخ کو پندرہ نشستوں کے لئے معطل کرتا ہوں۔

