اسلام آباد(ڈان نیوز / سپریم کورٹ پاکستان)سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی ملازم کی پنشن کوئی عنایت یا خیرات نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت ایک محفوظ اور تحفظ یافتہ حق ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے شکیل احمد کیانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پنشن زندگی، وقار اور روزی کے حق سے جڑی ہے، اور بڑھاپے میں اگر معاشی سہولت نہ ہو تو یہ حقوق بے معنی ہو جاتے ہیں۔
درخواست گزار نے 2 فروری 1995ء کو سابق او جی ڈی سی میں ملازمت اختیار کی تھی اور 17 جون 2021ء کو سینئر اکاؤنٹنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے اضافی پنشن کے حق کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کی تھی۔
جسٹس شاہ نے مزید کہا کہ پنشن سے انکار کرنا کسی شخص کو اس کے جائز تحفظ سے محروم کرنا ہے، جس سے وہ محرومی، بے بسی اور ذلت کا شکار ہوتا ہے۔ پنشن کا نظام اس اصول پر مبنی ہونا چاہیے کہ خدمت کرنے والے افراد کو بڑھاپے میں تنہا یا محروم نہ چھوڑا جائے۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو اضافی پنشن کے حق دار قرار دیا اور کمپنی کو ہدایت کی کہ 30 دن کے اندر اضافی پنشن ادا کی جائے اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو تعمیل رپورٹ پیش کی جائے۔ اگر نومبر 2025ء کے پہلے ہفتے تک رپورٹ موصول نہ ہوئی تو مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
فیصلے میں انسانی وقار اور آئینی حقوق کے تحفظ کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، جس کے مطابق پنشن کسی عنایت یا خیرات کے طور پر نہیں بلکہ ملازمین کا حق ہے۔

