پورا پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنے پر برطانیہ کی نائب وزیراعظم عہدے سے مستعفی

لندن (رائٹرز) —برطانیہ کی نائب وزیراعظم اینجلا رینر نے اپنے نئے گھر پر جائیداد ٹیکس کی مکمل ادائیگی نہ کرنے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وزارت اور لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر شپ دونوں عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیلئے اب تک کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر جانبدار وزارتی مشیر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اینجلا رینر نے درست ٹیکس ادا نہ کرکے وزارتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وزیراعظم اسٹارمر اپنی قریبی ساتھی کو مزید بچا نہ سکے۔

45 سالہ اینجلا رینر، اسٹارمر کی ٹیم سے مستعفی ہونے والی آٹھویں اور سب سے سینئر وزیر ہیں۔ ان کے استعفیٰ سے اسٹارمر کی حکومت پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ اقتدار سنبھالنے کے صرف ایک سال کے اندر اُن کی کابینہ میں مستعفی وزرا کی تعداد گزشتہ پچاس برسوں میں کسی بھی برطانوی وزیراعظم سے زیادہ ہو گئی ہے۔

اپنے استعفیٰ میں رینر نے لکھا’’مجھے اس بات پر گہرا افسوس ہے کہ میں نے ٹیکس معاملات پر مزید ماہرین سے مشورہ نہیں لیا۔ اس غلطی کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے نتائج اور ان کے خاندان پر اثرات کے باعث استعفیٰ دینا ناگزیر تھا۔

وزیراعظم اسٹارمر نے ایک جذباتی خط میں رینر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا’’آپ ایک قابل اعتماد ساتھی اور سچی دوست ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے حکومت سے آپ کے جانے کا بہت افسوس ہے، چاہے آپ کابینہ میں نہ ہوں، مگر آپ پارٹی کی ایک اہم شخصیت رہیں گی۔‘‘

وزارتی معیارات کے آزاد مشیر نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ رینر نے اُس قانونی مشورے میں شامل وارننگ کو نظرانداز کیا، جس پر وہ انحصار کرنے کا دعویٰ کرتی رہیں، حالانکہ پیچیدہ مالی معاملات پر انہیں مزید ماہرین سے رہنمائی لینا چاہیے تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں