واشنگٹن (رائٹرز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی تو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین میں جنگ بند کرنا پڑے گی۔امریکی نشریاتی ادارے CNBC کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا’’اگر توانائی مزید 10 ڈالر فی بیرل کم ہو گئی تو پیوٹن کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا، کیونکہ اس کی معیشت تباہ حال ہے۔‘‘
“8 اگست کی ڈیڈلائن اور روس پر ممکنہ سخت پابندیاں”
ٹرمپ انتظامیہ نے روسی صدر کو 8 اگست تک یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی مہلت دے رکھی ہے، بصورت دیگر امریکہ کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بھارت اور چین پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں۔
“OPEC+ نے پیداوار بڑھا دی”
صدر ٹرمپ نے OPEC ممالک کی جانب سے توانائی کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو تیل کی پیداوار میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا۔ان کے الفاظ میں’’اگر آپ نے غور کیا ہو تو OPEC اور OPEC+ ممالک زیادہ ڈرلنگ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں خوش رہوں۔‘‘
واضح رہے کہ OPEC+ نے اتوار کے روز ستمبر کے لیے یومیہ 5 لاکھ 47 ہزار بیرل تیل پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا، تاکہ روس سے جڑی فراہمی کے خطرات کے پیش نظر مارکیٹ میں اپنا حصہ برقرار رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ تاہم بھارت، چین اور چند دیگر ممالک نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی، جس پر امریکہ بارہا تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب روس کے خلاف توانائی کی منڈیوں میں دباؤ بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ معاشی طور پر پیوٹن کو کمزور کیا جا سکے۔

