پہلگام واقعہ: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان

نئی دہلی(نامہ نگار)بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دیا جائیگا۔

یہ افسوسناک واقعہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ہوا جو مسلمان اکثریتی علاقے میں واقع ہے، پہلگام میں موسم گرما کے دوران ہزاروں سیاح وادی کی خوبصورتی دیکھنے کیلئےیہاں کا رخ کرتے ہیں۔

اے ایف پی نے ایک ہسپتال کی فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 26 ہے جو تمام مرد تھے جب کہ پولیس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں مزید 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے بتایا کہ کیبنٹ کمیٹی برائے سیکیورٹی (سی سی ایس) کا اجلاس وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہوا۔

سی سی ایس کو بریفنگ میں سرحد پار سے دہشت گردی کے حملے کے لنکیجز کو سامنے لایا گیا،نوٹ کیا گیا کہ یہ حملہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کے کامیاب انعقاد اور اقتصادی ترقی کیطرف مسلسل پیش رفت کے تناظر میں کیا گیا۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ کے مطابق اس حملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے سی سی ایس نے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے کہ ’1960 کا سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا‘۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت آرٹیکل 12(4) صرف اس صورت میں معاہدہ ختم کرنے کا حق دیتا ہے، جب بھارت اور پاکستان دونوں تحریری طور پر راضی ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں