قاتل موقع پر ہی مارا گیا، اہم تفتیشی افسر طیارہ حادثے میں جاں بحق
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) 16 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ان کے قاتل کا نام سید اکبر بتایا گیا جسے موقع پر پکڑنے کے بجائے قتل کر دیا گیا تاکہ تمام نشان مٹا دیے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق، لیاقت علی خان کے قتل کی تفتیش کرنے والے آئی جی اسپیشل پولیس نوابزادہ اعتزاز الدین کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز پشاور جا رہے تھے جب ان کا طیارہ کھیوڑہ کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں ان کے ساتھ کیس سے متعلق اہم کاغذات بھی جل کر راکھ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق، سید اکبر کی بیوہ اور چار بیٹوں کو ایبٹ آباد کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا جہاں سخت پہرے میں اس وقت کی جدید ترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ گزر بسر کیلئےایک شاندار وظیفہ بھی مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں، اس گھر پر پہرہ دینے والے سپاہی سے سید اکبر کی بیوہ نے شادی کر لی، جن سے اس کے مزید چار بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق، سید اکبر کے تین بیٹے بعد ازاں امریکہ منتقل کر دیے گئے، جہاں انہیں کاروبار کیلئےسرمایہ فراہم کیا گیا اور وہ اب کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ ان کی بیوہ ماں کچھ عرصہ قبل 106 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق، لیاقت علی خان نے بھارت میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، سینکڑوں ملازم اور کروڑوں روپے پاکستان کی خاطر چھوڑ دیے تھے۔ دہلی میں موجود اپنی کوٹھی پاکستانی سفارتخانہ بنانے کیلئے پیش کر دی اور اپنی تمام دولت وطن پر قربان کر دی۔
ان کی شہادت کے بعد ان کی بیوہ کی پنشن بھی بند کر دی گئی۔ مبصرین کے مطابق، یہ افسوسناک روایت رہی ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اپنے محسنوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرتے آئے ہیں۔

