دوہری شہریت رکھنے والوں کی اسمبلیوں سے بے دخلی 27ویں ترمیم کا اہم حصہ ہے
حکمرانوں کی پالیسیوں نے معیشت کو تباہ کیا، لاہور چیمبر کے صدر کا خطاب
لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر میاں ابوذر شاد نے کہا ہے کہ “پیر سے آپ ایک نیا پاکستان دیکھیں گے… واقعی، صرف تین دن بعد بہت کچھ بدلنے والا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے دوران ان کی یہ تجویز تھی کہ 50 ہزار دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو اسمبلیوں سے نکالا جائے کیونکہ کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ “امریکن پاسپورٹ ہولڈر آکر ایم این اے، ایم پی اے، وزیر اور وفاقی وزیر بن جائیں اور اپنی جائیدادیں امریکہ میں رکھیں۔”
میاں ابوذر شاد نے کہا کہ ان کی اس تجویز پر اعلیٰ حکام نے اطمینان ظاہر کیا اور اسے درست قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ “دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ سرکاری افسر کسی بھی صنعت کار یا دکاندار کو ہتھکڑی لگا دے۔ آپ قوم کے خادم ہیں، مالک نہیں۔ یہی وہ وجہ ہے جس نے اسمبلی کو مفلوج کیا۔”
“اگر نواز شریف فاؤنڈری قومیانے نہ دیتے تو آج برلا اور ٹاٹا بن چکے ہوتے”
اپنے خطاب میں میاں ابوذر شاد نے سابق ادوار کی نجکاری اور معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا”اگر اس وقت میاں نواز شریف کی فاؤنڈری قومیائی نہ جاتی تو وہ آج برلا اور ٹاٹا جیسے صنعتی گروپس بن چکے ہوتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ”MCB بینک صرف 3 ارب روپے میں بیچا گیا جبکہ آج اس کا سالانہ منافع 120 ارب روپے ہے”۔”ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری 1992 میں صرف 18.5 کروڑ میں فروخت ہوئی۔””PC ہوٹل 14.5 کروڑ میں دیا گیا۔”
میاں ابوذر شاد نے کہا کہ “قوم کو بتایا جائے کہ ان حکمرانوں نے ملکی معیشت کے ساتھ کس قدر سنگین زیادتیاں کیں، اور کس طرح قیمتی ادارے دشمنوں کے ہاتھ چلے گئے۔”
“قوم کو سچ بتایا جائے”لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے تاکہ ملک دوبارہ معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکے۔

