واشنگٹن(اے ایف پی)امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے بڑے اقدام کے تحت ڈیفینس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز سمیت دو دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ برطرفیوں کی فوری وضاحت نہیں دی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز اب امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ مزید دو اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو بھی ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈی آئی اے کی ایک لیک شدہ رپورٹ پر سخت ردعمل دیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران پر امریکی حملوں نے اس کے جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے اس تجزیے کو ’’بالکل غلط‘‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اس رپورٹ کو ’’کمزور انٹیلی جنس‘‘ پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس لیک کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہی ہے۔ڈی آئی اے پینٹاگون کا ایک کلیدی ادارہ ہے جو فوجی انٹیلی جنس میں مہارت رکھتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے لیے معلومات فراہم کرتا ہے۔
امریکی سینیٹر مارک وارنر نے جنرل جیفری کروز کی برطرفی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر ٹرمپ انٹیلی جنس اداروں کو قومی سلامتی کے بجائے ’’وفاداری کے امتحان‘‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے متعدد اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا تھا جن کی رپورٹس ان کے مؤقف سے متصادم سمجھی گئی تھیں۔پینٹاگون میں حالیہ برطرفیاں ٹرمپ انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات امریکی انٹیلی جنس کے غیر جانبدارانہ کردار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

