بہاولپور (نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے موجودہ قومی و علاقائی صورتحال پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے پوری قوم اور مسلح افواج متحد اور پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے تاہم امن کو کمزوری سمجھنا غلط ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج جدید دفاعی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ہیں اور کسی بھی داخلی یا خارجی خطرے کی صورت میں مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مخدوم سید احمد محمود کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں دہشتگردی کی نئی لہر نے خطے کے امن کو متاثر کیا ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو ہمسایہ ملک کی سرزمین سے معاونت ملنے کے شواہد متعدد بار سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے سفارتی ذرائع اختیار کیے اور شواہد بھی فراہم کیے مگر مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری پہلے ہی دہشتگردی میں ملوث عناصر کو واضح پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کو دہشتگردی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اور خونریزی جاری رہنے کی صورت میں قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے چیف کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین، جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بہاولنگر رانا محمد انتظار اور میڈیا کوآرڈینیٹر جنوبی پنجاب محمد سلیم مغل نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے تانے بانے سرحد پار عناصر سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض علاقائی قوتیں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ افواج پاکستان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے سفارتی روابط اور سیاسی مکالمہ جاری رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مؤثر سفارتی رابطوں، بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس تعاون اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا محض فرنٹ لائن صوبہ نہیں بلکہ وسطی و جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا اہم اسٹریٹجک پل بن سکتا ہے۔
بیان کے اختتام پر رہنماؤں نے کہا کہ آزمائش کے وقت اتحاد، حکمت اور جرات کا مظاہرہ ہی قوموں کی پہچان بنتا ہے اور پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر قومی مفادات، عوام کے تحفظ اور علاقائی امن کیلئےہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

