” پیچھے نہیں ہٹیں گے”: کینیڈین شہریوں کی جانب سے امریکی مصنوعات اور سفرکا بائیکاٹ

اوٹاوا( نمائندہ خصوصی)— امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران، کینیڈین شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ اور امریکا کے سفر سے اجتناب کی مہم کو اپنایا ہے۔ کینیڈین عوام اب یہ فیصلہ خود کر رہے ہیں کہ وہ اپنی رقم کہاں خرچ کریں، اور امریکی معیشت کو فائدہ دینے کے بجائے قومی سطح پر خود کفالت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کینیڈا کے نشریاتی ادارے سی بی سی نیوز کے مطابق درجنوں شہریوں نے بتایا ہے کہ وہ خریداری کرتے وقت اب ہر چیز کی لیبلنگ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اشیاء کینیڈا یا کسی تجارتی دوست ملک میں بنی ہوں۔

“لیبل پڑھنے کے عادی ہو گئے ہیں”

ریٹا بیلی نے سی بی سی کو بتایا کہ وہ ہر بار خریداری سے قبل دیکھتی ہیں کہ اشیاء کہاں تیار ہوئیں۔ انہوں نے کہا: “یہ اندازِ خرید مجھے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا یہ چیز واقعی ضروری ہے یا نہیں۔ اس سوچ نے مجھے صارفیت کے کلچر سے باہر نکالا ہے، جو میرے مالی اور ذہنی سکون دونوں کیلئےفائدہ مند ہے۔”

لارری شارپ اور ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے دن سے ہی امریکی اشیاء کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ “ہم کینیڈین اشیاء کے پرجوش خریدار ہیں، اور لیبل پڑھنا اب ہماری عادت بن چکی ہے،” انہوں نے لکھا۔

“سرحد پار نہیں کرتے”

شارپ نے مزید کہا کہ ان کا بائیکاٹ صرف خریداری تک محدود نہیں بلکہ وہ امریکا جانے سے بھی انکار کر چکے ہیں، حالانکہ وہ امریکی سرحد سے صرف 20 منٹ کی مسافت پر رہتے ہیں۔ “ٹرمپ سے پہلے ہم اکثر امریکا جایا کرتے تھے، اب مکمل بائیکاٹ ہے۔”

تھورالڈ، اونٹاریو کے رہائشی جینو پیالون نے بھی اسی نوعیت کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں ہر ماہ دو بار امریکا جایا کرتے تھے — شاپنگ، پٹرول، کھانے اور سالانہ گالف ٹرپ کیلئے۔انہوں نے کہا “اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں امریکا نہیں جاؤں گا، کیونکہ میں ایسے ملک کی معیشت کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتا جو ہماری معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے”۔

“خود کفالت اور قومی شعور کا مظاہرہ”

مبصرین کے مطابق، یہ عوامی ردعمل کینیڈین شہریوں کے قومی شعور اور معاشی خود انحصاری کی علامت ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 35 فیصد ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد بائیکاٹ کی یہ تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں