اسلام آباد (نامہ نگار)نجکاری کمیشن آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل شروع کریگا، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے نیلامی کے عمل سے دستبردار ہونے کے بعد اب تین بولی دہندگان مقابلے میں رہ گئے ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق بولیاں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص پر لگائی جائیں گی اور نیلامی کا عمل ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست نشر کیا جائیگا۔
اتوار کو جاری کردہ شیڈول کے مطابق بولیاں صبح 10 بج کر 45 منٹ سے 11 بج کر 15 منٹ تک جمع کی جائیں گی، جبکہ سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر بولیاں کھولی جائیں گی۔ باقی تین بولی دہندگان میں ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل ہے، دوسرا کنسورشیم عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل ہے جبکہ تیسرا بولی دہندہ ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔
مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق بولیاں جمع ہونے کے بعد انہیں شفاف باکس میں رکھا جائیگا، جس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت مقرر کریگا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دیگی اور بولیاں کھولنے کے وقت اس کا اعلان کیا جائیگا۔ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی ہوگی، جبکہ کم ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ترجیح دی جائیگی۔
محمد علی کے مطابق وفاقی کابینہ چند دنوں میں لین دین کی منظوری دیگی، جس کے بعد دستاویزات پر دستخط ہونگے اور نجکاری کمیشن کے پاس 90 دن ہوں گے جن میں جائیدادوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں سمیت دیگر امور کی منتقلی مکمل کی جائے گی۔ 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے کو ملے گا، جبکہ حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال میں ادا کی جائے گی۔ ملازمین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جائے گا اور پنشن و دیگر مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔
مشیر نجکاری کے مطابق پی آئی اے کے 34 طیاروں میں سے 18 اس وقت فعال ہیں، جبکہ ایئرلائن کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی معاہدے اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درست انتظام اور سرمایہ کاری کے ذریعے پی آئی اے دوبارہ منافع بخش ادارہ بن سکتی ہے۔

