لاڑکانہ(نامہ نگار)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے پیغام ہے کہ وہ انتہا پسندی چھوڑ دے، یہ پی ٹی آئی اور اس کے کارکنوں کیلئے بہتر ہوگا۔ لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو شدت پسندی کی سیاست ترک کرنی چاہیے، اس سے ملکی سیاست پر مثبت اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتہا پسندی کی سیاست کی جائے گی تو پھر سخت ردعمل پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، لیڈر کی گرفتاری یا کسی کیس پر قومی اداروں پر حملے کیے جائیں گے تو کارروائی پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی ایسے اقدامات کرتی تو معلوم نہیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا، جبکہ ان کے ساتھ تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں اور سیاست کیلئےمزید گنجائش پیدا کرنا ملک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے بی بی کی برسی پر وفد بھیجنے پر وزیراعظم اور میاں نواز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ جمہوریت کی بقا کیلئےسیاسی حل ناگزیر ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے نجکاری کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ترجیح دیتی ہے، اس ماڈل کے ذریعے عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اگر معاشی بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور وفاق کو سندھ حکومت کے تجربے سے سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وہ اقدامات کر رہی ہے جو دیگر صوبوں میں نظر نہیں آتے، صوبے میں مریضوں کو سو فیصد مفت طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور بچوں کو عالمی معیار کے مطابق علاج کی سہولت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں بچوں کی اموات کی شرح سندھ میں سب سے کم ہے اور بچوں کی جان بچانا پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ طبی شعبے میں سندھ کی سہولتوں کا کوئی مقابلہ نہیں اور صوبے میں عالمی معیار کے صحت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

