واشنگٹن/یوٹا ( نمائندہ خصوصی،رائٹرز، بی بی سی) –امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند رہنما چارلی کرک کے قتل میں استعمال ہونے والی مبینہ رائفل برآمد کرلی ہے اور قاتل کی معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایف بی آئی اور ریاستی حکام نے بتایا کہ ’ہائی پاور بولٹ ایکشن‘ رائفل قریبی جنگل سے ملی ہے اور اس پر موجود ہتھیلی اور قدموں کے نشانات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ حکام نے مشتبہ شخص کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جو بظاہر کالج طالب علم کی عمر کا دکھائی دیتا ہے۔ سیکیورٹی فوٹیج میں ملزم کو چھت پر جاتے اور فائرنگ کے بعد قریبی محلے میں فرار ہوتے دیکھا گیا۔
بدھ کے روز یوٹا ویلی یونیورسٹی میں تقریب کے دوران گولی لگنے سے 31 سالہ چارلی کرک ہلاک ہوگئے تھے۔ واقعے کے وقت تقریب میں تین ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔ چارلی کرک اسلحہ رکھنے کے حقوق کے بڑے حامی تھے اور حاضرین کے سوالات کا جواب دے رہے تھے جب انہیں گردن میں گولی لگی اور شرکا میں بھگدڑ مچ گئی۔
ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ رابرٹ بولز کے مطابق شوٹر تقریب شروع ہونے سے چند منٹ قبل کیمپس میں داخل ہوا تھا اور چھت پر پہنچ کر فائرنگ کی۔ یوٹا یونیورسٹی نے واقعے کے بعد آج تمام کلاسیں منسوخ کر دیں اور عمارت کو شواہد اکٹھا کرنے کے لیے سیل کر دیا گیا۔
بی بی سی کے مطابق ایف بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ چارلی کرک کے قاتل کی شناخت اور گرفتاری تک پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے والے کو ایک لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات، تصاویر یا ویڈیوز مخصوص فون نمبر یا آن لائن پورٹل پر فراہم کریں۔ حکام نے بتایا کہ اب تک 130 اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے گولہ بارود پر کچھ تحریریں کندہ تھیں جن کے معنی تاحال واضح نہیں ہوسکے۔ یوٹا کے پبلک سیفٹی کمشنر بیو میسن نے کہا کہ مشتبہ شخص کیمپس پر “آسانی سے گھل مل گیا تھا” اور اس نے سیاہ قمیص، سیاہ چشمہ اور گہرے رنگ کی بیس بال کیپ پہن رکھی تھی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چارلی کرک کو بعد از مرگ امریکی صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا جائے گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے 11 ستمبر کی یادگاری تقریب میں شرکت منسوخ کر کے یوٹا میں مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات کا اعلان کیا ہے۔
چارلی کرک قدامت پسند طلبہ کے گروپ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے شریک بانی اور صدر تھے اور اپنے 15 شہروں پر مشتمل ’امریکن کم بیک ٹور‘ کے پہلے پروگرام میں شریک تھے۔ ان کے قتل نے امریکا میں سیاسی تشدد اور انتخابی مہم کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

