واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چارلی کرک کے قتل کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بڑے پیمانے پر تلاشی اور تحقیقات کے بعد مشتبہ شخص کو چارلی کرک کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ ایک خاندانی فرد نے ملزم کے بارے میں معلومات فراہم کیں، جس کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یوٹاہ کے گورنر اسپینسر کاکس نے بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت 22 سالہ ٹائلر رابنسن کے طور پر ہوئی ہے۔ گورنر کے مطابق، رابنسن نے ایک خاندانی دوست سے رابطہ کیا، جس نے بعد ازاں حکام کو اطلاع دی۔ ایک خاندانی رکن نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ رابنسن نے فائرنگ سے قبل کرک کے بارے میں منفی انداز میں بات کی تھی۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر کو امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند نوجوانوں کی تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے سی ای او اور شریک بانی 31 سالہ چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی تحقیقاتی حکام نے قتل میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی بولٹ ایکشن رائفل برآمد کر لی ہے، اور قاتل کی معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ’عظیم، بلکہ حقیقی معنوں میں ایک لیجنڈری، چارلی کرک وفات پا گئے ہیں۔‘

