چلاس: شاہراہِ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

چلاس (نامہ نگار) گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں شاہراہِ قراقرم پر خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جبکہ دو گاڑیاں دریا میں جاگریں۔ حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہے اور علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

“گندلو کے مقام پر حادثہ، کئی افراد کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ”
ترجمان حکومتِ گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے مطابق،”گندلو کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اطلاع ملی ہے کہ کچھ افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔” حادثے کے وقت شاہراہ پر درجنوں مسافر گاڑیاں رواں دواں تھیں جن میں سے کئی گاڑیاں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئیں جبکہ دو گاڑیاں دریائے سندھ میں جا گریں۔

“وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا نوٹس، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ”
ترجمان نے مزید بتایا کہ”وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہدایت دی ہے کہ امدادی عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے۔”اس موقع پر علاقائی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

“کچھ مسافروں نے چھلانگ لگا کر جانیں بچائیں”
فیض اللہ فراق نے کہا کہ”گندلو کے قریب ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم کچھ مسافر گاڑیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوگئے۔”عینی شاہدین کے مطابق، اچانک پہاڑ سے بھاری پتھروں اور مٹی کے تودے گرنے سے شاہراہِ قراقرم مکمل طور پر بند ہو گئی ہے اور سینکڑوں گاڑیاں دونوں اطراف پھنس گئی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ کی بحالی میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں سفر کرنے والے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ متبادل راستے اختیار کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں