چلتے پھرتے اسپیڈ بریکر

یہ کہانی پنجاب کے دل لاہور کی ہے جسے آج کے حکمرانوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے۔وزیراعظم کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے اور پنجاب کی وزیراعلیٰ نے بھی اسی شہربے مثال میں ہوش سنبھالا اور سیاست کے اسرار و رموز سیکھے۔آپ لاہور میں ٹریفک کے اشارے پر کسی بھی چوک میں رکتے ہیں تو گداگروں کی ٹولیاں آپ کی گاڑی کے اردگرد منڈلانے لگتی ہیں۔آپ ان سے معذرت طلب کر بھی لیں تو یہ پیشہ ور منگتے آپ کی جان نہیں چھوڑتے۔ان میں عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے سبھی شامل ہوتے ہیں۔کچھ بوڑھی خواتین نے شیرخوار بچے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔صاف پتا چلتا ہے کہ یہ بچے ان کے نہیں۔آپ کو ان شیرخوار بچوں کی معصومیت پر ترس آتا ہو گا لیکن ساتھ ہی دل میں یہ خیال بھی آتا ہو گا کہ یہ بچے یا تو کرائے پر لائے گئے ہوں گے یا کہیں سے اغوا کیے گئے ہوں گے۔بعض مرد گداگر اپنے دونوں ہاتھوں کی اوٹ بنا کر آپ کی گاڑی کے شیشوں سے اندر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا وہ آپ کی پرائیویسی میں دخل اندازی کرتے ہیں۔گاڑی میں بیٹھی خواتین شرم سے سمٹ جاتی ہیں۔سرخ بتی کی تو الگ بات ہے، یہ لوگ اشارہ سبز ہونے کے باوجود گاڑیوں کو گھیرے کھڑے رہتے ہیں۔گویا یہ ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ٹریفک پولیس کے اہل کاروں کو آپ ان کو یہاں سے ہٹانے کا کہتے ہیں تو وہ کورا جواب دے دیتے ہیں۔میرے ساتھ کئی بار ایسا ہی ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انھیں ہٹانا ہماری ذمہ داری نہیں۔چلیے مان لیا کہ ان گداگروں کو ہٹانا ان کی ذمہ داری نہیں لیکن ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالنے والوں کو باز رکھنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا تو ان کی ذمہ داری ہے۔

بھلا ہو موجودہ چیف ٹریفک آفیسر اطہر وحید کا کہ انھوں نے اپنے اہل کاروں کو ان گداگروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن صورت حال اب بھی جوں کی توں ہے۔پنجاب اسمبلی نے گداگری کے خلاف ایک مسودہء_ قانون پاس کیا ہے جس کی رو سے بھیک منگوانے والوں کو پکڑا جائے گا اور انھیں سخت سزائیں دی جائیں گی۔اس مسودے میں بھیک منگوانے والوں کا ذکر تو ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ بھیک مانگنے والوں کیلئےسخت سزائیں تجویز نہیں کی گئیں۔حالت یہ ہے کہ عین سی۔ٹی۔او آفس کے سامنے واقع کچہری چوک میں آج بھی صبح سے رات تک گداگر کھڑے رہتے ہیں۔یہ گداگر اصل میں سڑکوں پر چلتے پھرتے اسپیڈ بریکر ہیں جو تیز رفتار گاڑیوں کو سست رفتاری سے چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔انکی وجہ سے حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔

اسی طرح آپ کو منٹگمری روڈ، میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ان سڑکوں کے عین درمیان میں موٹر مکینکوں کے ایجنٹ جتھے بنا کر کھڑے نظر آئیں گے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہاں سے گزرنے والا ہر شخص صرف گاڑی کا کام کروانے آیا ہے۔یہ عین گاڑی کے سامنے آ کر گاڑی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موٹر مکینکوں کے یہ ایجنٹ آپ کو گھیر کر کسی ورک شاپ میں لے جائیں گے اور ورک شاپ کے مالک سے اپنا کمیشن وصول کر کے پھر سے اسی سڑک پر آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ انھیں آپ اپنی گاڑی کی کوئی بھی خرابی بتائیے، یہ آپ سے فوراً کہیں گے کہ ابھی کام کرا دیتے ہیں۔یہ اصل میں جانتے ہیں کہ کون سا کام کون سی ورک شاپ میں ہوتا ہے۔یہ آپ کو اور آپ کی گاڑی کو مطلوبہ ورک شاپ تک پہنچانے کا معاوضہ مکینک سے وصول کر کے آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ جاتے ہیں۔ان لوگوں کو بھی میں چلتے پھرتے اسپیڈ بریکر ہی سمجھتا ہوں۔یہ تیزی سے گزرنے والوں کو گاڑی آہستہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے کمیشن ایجنٹ لاہور کی متعدد سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔

لاہور کی کئی سڑکیں اب سگنل فری کر دی گئی ہیں۔ ان سڑکوں گاڑیوں کی رفتار تیز ہی رہتی ہے لیکن ان سڑکوں کو پیدل عبور کرنے والے لوگ چلتے پھرتے اسپیڈ بریکروں کا کام کرتے ہیں۔کبھی کبھی حادثات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔اس میں پیدل چلنے والوں کو کوئی قصور نہیں۔سڑکوں کو سگنل فری کرنے والی حکومتوں کو چاہیے تھا کہ سڑک عبور کرنے کے لیے جگہ جگہ پل بنائے جاتے۔کئی کلومیٹر طویل سڑکوں پر دوچار پل بنانے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ سی۔ٹی او لاہور اطہر وحید نے اگر گداگری کے خلاف مسودہء قانون منظور کرا لیا ہے تو ان چلتے پھرتے اسپیڈ بریکروں کے خاتمے کیلئےبھی سنجیدگی سے سوچیں۔ٹریفک اہل کاروں کو لگتا ہے کہ انھیں شاید صرف اور صرف چالان کرنے کیلئے بھرتی کیا گیا ہے۔ٹریفک کے بہاؤ اور شہریوں کی سہولت کبھی ان کے پیش نظر نہیں رہی۔ان ٹریفک اہل کاروں کو عام آدمی کی اہمیت اور عزت کے بارے میں کبھی بتایا ہی نہیں گیا۔چنانچہ وہ اپنی افتاد طبع کے مطابق سڑک کنارے روک کر عام آدمی کی “خاطر مدارات” کرتے نظر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں