چور نہیں، چور کی ماں کا محاسبہ کریں!

پورے ملک میں سیلابی کیفیت، حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ پاک فوج بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کا زیادہ وقت سیلابی کیفیت سے آگاہی سے گزر رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا بھی ایسی ہی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں، تاہم ان حالات میں بھی ایسے سرکاری محکمے موجود ہیں جو اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے کارروائی ڈالتے چلے جا رہے ہیں، آج بھی سیلاب اور اس سے متعلقہ بعض دوسرے پہلوؤں کا ذکر مقصود تھا لیکن ایک کارروائی کی خبر نظر سے گزری تو خیال آیا کہ اس ”کارروائی“ کا بھی ذکر ساتھ ہی کرلیں کہ عوامی صحت کا ضامن یہ محکمہ یا اتھارٹی اپنے ”فرائض“ میں ہمہ تن مصروف ہے،خبر یہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور قصور روڈ پر ناکہ بندی کرکے 22ہزار680لیٹر مضر صحت دودھ اور 676کلو گوشت تلف کر دیا او ریہ کارنامہ گزشتہ روز صبح کے وقت ناکہ بندی کرکے انجام دیا گیا، ایسا احساس ہوا کہ ہمارے فوڈ اتھارٹی والے اہلکار نہ صرف مستعد بلکہ نفسیات دان بھی ہیں اور ان کو یقین تھا کہ حالیہ ہنگامی حالات میں شکر خورے شکر کا شکار ضرور کریں گے اور ان اہلکاروں نے ایسا نہیں ہونے دیا، قارئین! یہ خبر کوئی پہلی بار جاری ہو کر شائع نہیں ہوئی بلکہ اکثر اتھارٹی کی طرف سے اس نوعیت کی پریس ریلیز جاری ہوتی اور شائع ہو جاتی ہیں، یوں کارکردگی کا سفر جاری رہتا ہے، لیکن اس ساری محنت کے نتیجے میں صارفین اور شہریوں کو کیا اور کتنا فائدہ ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ حکومت کی طرف سے تمام جدید وسائل مہیا کرنے کے باوجود بھی شہروں میں ملاوٹ والا اور غیر معیاری دودھ فروخت ہوتا چلا جا رہا ہے، اسی طرح مضر صحت گوشت بعض ریستورانوں اور کھانے کے سٹال کے علاوہ برگر پوائنٹس پر بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ کھانے کا ملاوٹی تیل تو عام ہے جو یہ حضرات گاہکوں کو کھلا رہے ہیں۔

ان حالات کے باعث ہی میں یہ اخذ کرنے پر مجبور ہوں کہ فوڈ اتھارٹی بھی کارروائی اتھارٹی بن کر رہ گئی ہے کہ دکانوں پر کھلے بندوں دودھ کی دو سے تین اقسام بیچی جا رہی ہیں اوران کے نرخ بھی الگ الگ ہیں۔ ایک دکان دار سے ہمارا بھی مکالمہ ہوا، ان کی تعریف سن کر دودھ لینے گئے انہوں نے دریافت کیا کہ دو سو روپے فی کلو (لیٹر نہیں)والا لیں گے یا 220روپے فی لیٹر والا دوں، جب محترم سے دریافت کیا کہ ہر دو میں فرق کیا ہے تو محترم نے دو فرق بتائے ایک تو یہ بتایا کہ 2سو روپے والے میں گائے کا دودھ بھی ہوتا ہے اور اکثر گوالے کچھ پانی بھی ملا دیتے ہیں، یہ روش لاہور میں عام ہے لیکن فوڈ اتھارٹی کے علم میں نہیں کہ ایسی دکانوں سے ان کو نمونے لیتے نہیں دیکھا گیا، اس سلسلے میں یہ بتانا بے جا نہ ہوگا کہ حکومت کی طرف سے فوڈ اتھارٹی کو موبائل لیبارٹریاں بھی دی گئی ہیں، یہ مکمل ٹیسٹنگ کی اہلیت کی حامل ہیں اور ان گاڑیوں کے ذریعے دکان دار کے سامنے موقع پر ہی نمونہ ٹیسٹ کرکے نتیجہ بتایا جا سکتا ہے لیکن ایسا آج تک ہوتا نظر نہیں آیا اور دکانوں پر دھڑلے سے غیر معیاری دودھ، دہی اور اس سے بنی اشیاء فروخت ہو رہی ہیں، تاہم گاہے گاہے بازگان کی طرح ہر مہینے ایک یا دوبار ایسی اطلاع شروع فراہم کر دی جاتی ہے کہ ہزاروں لیٹر یا من مضرصحت دودھ پکڑ کر ضائع کر دیا گیا، اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلتا کہ جو حضرات یہ غیر صحت بخش دودھ لا کر فروخت کررہے تھے ان کا کیا ہوا، حالانکہ یہ واضح ہے کہ ایسا نقصان دہ دودھ جو اکثرکیمیکل والا ہوتا ہے، شہر کی دکانوں پر آکر ہی فروخت ہوتا ہے لیکن ان دکانوں سے پڑتال نہیں کی جاتی۔

حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور صاف کہا کہ یہ سب محکمے ناکارہ ہو چکے ہیں اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف تو ہم عوام کی زبان بول کر کہہ گئے کہ سیلاب آیا، سڑکیں بہہ گئیں، پل ٹوٹ گئے، سب رشوت خوری ہے اور کل تخمینے سے صرف 30-40فیصد خرچ ہوگا تو نتیجہ ایسا ہی نکلے گا، یاد رکھیں کہ وزیراعلیٰ کی سخت ہدایات کے باعث تجاوزات کے خلاف بڑی زبردست مہم شروع کی گئی، مارکیٹیں، بازار اور سڑکیں کھل گئیں، لیکن عملاً یہ ہو اکہ عارضی تجاوزات پھر سے نمودار ہو گئیں چنانچہ وزیراعلیٰ کو پیرا کے نام سے نئی اتھارٹی بنانا پڑی۔ اسی طرح انہوں نے جرائم کی روک تھام کے لئے ایک نیا شعبہ سی سی ڈی کے نام سے بنایا، ان اب یہ دعویٰ ہے کہ سی سی ڈی کی کارکردگی کے باعث جرائم میں 70فیصد کمی ہوگئی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ وزیرخزانہ اور وزیردفاع کے بیانات اور وزیراعلیٰ کی طرف سے دو نئے شعبے بنانے سے کارکردگی بہتر ہوئی اور نمایاں فرق نظر آیا تو ان سے پہلے جن اہلکار وں کی غفلت یا نااہلی سے یہ سب گند پھیلا تھا، ان کا کیا ہوا کیا ان اہلکاروں کا محاسبہ کیا گیا؟ ایسی کوئی اطلاع و خبر نظر سے تو نہیں گزری، حالانکہ ذرا تھوڑی تحقیق کی جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ تجاوزات کے اصل ذمہ دار تو یہی شعبے ہیں جن کے فرائض میں ان کی روک تھام شامل ہے اسی طرح خواجہ آصف کے علم میں بھی اب سیلاب کے بعد آیا کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں کمیشن اور رشوت چلتی ہے اور خرچ صرف 30-40فیصد ہوتا ہے، میڈیا تو اس حوالے سے کئی بار توجہ مبذول کرا چکا کہ ہر محکمے اور شعبہ میں کرپشن کی انتہا ہو چکی، سی سی ڈی کے قیام اور کارکردگی (گوقابل اعتراض ہے) سے بھی یہ ثابت ہو گیا کہ پولیس کے شعبہ میں کارکردگی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر سی سی ڈی مجرم پکڑ کر برآمدگیاں بھی کر سکتی ہے تو متعلقہ پولیس ملازم اور اہلکار کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ سب جھوٹے مقدمات بنانے، راہ گیروں پر تشدد کرنے اور کمائی کرنے کے لئے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ کارکردگی کے لئے نئے شعبے بنانے اور اخراجات میں اضافہ سے کام لیا جا رہا ہے تو جو نااہل ثابت ہو گئے اور ان کی کارکردگی صفر ہے بلکہ رشوت خور ہیں تو ان کا کیا کیا گیا، کیا ان کا محاسبہ کیا گیا اور کیا نئے شعبے یا محکمے بنا کر ہی کارکردگی حاصل کی جاتی رہے گی۔

اگر یہ عرض کروں تو طبع ناز پر گراں نہیں گزرنا چاہیے کہ محاسبے کا عمل مقصود ہے اگر محکمہ جاتی سطح پر درست محاسبہ ہو، کارکردگی ہی بنیاد ہو تو بہتری ممکن ہے لیکن یہاں تو حالات یہ ہیں کہ اچھے افسر مل گئے وہ بہتر عمل بھی کرتے اور چاہتے ہیں،لیکن پرانے کاریگروں کے جھانسے سے نہیں بچ پاتے اور ان پر اعتبار کرلیتے ہیں۔فوڈ اتھارٹی کا ذکر کیا تو خود وزراء اور وزراء اعلیٰ اور وزیراعظم تک بھی یہ سب جانتے ہیں تو بہتر ان کا حل اور علاج کیوں نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں