پنجاب گروپ کالجز اور دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود کچھ عرصہ سے ملک کو چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کی تحریک شروع کئے ہوئے ہیں،وہ جنرل پرویز مشرف کے دور والے ضلعی بلدیاتی نظام میں خود بھی لاہور کے ناظم رہے ہیں اور یوں ان کو تو ضلع کی سطح پر انتظامی امور کا تجربہ ہے،اب انہوں نے ملک کے چار صوبوں کو33صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات کی اور وکالت بھی کر رہے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ اس طرح نہ صرف عام آدمی کو مسائل کے حل کے لئے دور دراز نہیں جانا ہو گا،بلکہ اس سے حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی ہو گی۔ میاں عامر محمود نے اپنی تجویز کی حمایت کے لئے دانشور حلقوں کا انتخاب کیا اور متعدد یونیورسٹیوں میں تفصیلی خطاب بھی کر چکے ہیں،وہ ان چھوٹے صوبوں کی تجویز کے حق میں دلائل بھی دیتے ہیں، میاں عامر محمود کے ساتھ ایک اور تعلیمی اور میڈیا گروپ کے سربراہ عبدالرحمن چودھری نے بھی ان کی تائید کی اور تعاون بھی پیش کیا، سابق ناظم اعلیٰ لاہور اپنی اس تجویز کے لئے بہت سنجیدہ ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں تحقیقی کام بھی کیا ہوا ہے اور دلائل سے بات کرتے ہیں،اس کے باوجود ابھی اس تجویز کے حوالے سے کئی پرتیں کھلنا ہیں اور محرک سے بعض سوالات بھی واجب ہیں۔
بات کو آگے بڑھانے سے قبل عرض کروں کہ یہ تجویز پہلی بار سامنے نہیں آئی، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں تحریک استقلال کی طرف سے بنائی گئی مختلف کمیٹیوں میں سے قانون اور پارلیمانی امور سے متعلق کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کی تھیں اور انہی میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ صوبوں میں جتنے ڈویژن ہیں ان کو بھارت کی دہلی والی حکومت کی طرز پر صوبائی حیثیت دے دی جائے اور لیفٹیننٹ گورنر سربراہ ہو۔ یوں انتظامات کی تقسیم کے ساتھ سیاسی تقسیم بھی نظر آئے گی۔اس کمیٹی کے سربراہ معروف قانون دان میاں محمود علی قصوری تھے۔مجھے یقین ہے کہ اِس کمیٹی کی یہ سفارشات کی کوئی نقل میاں صاحب کے صاحبزادے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے پاس ہو گی،اس سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے اور خورشید محمود قصوری کی رائے بھی لی جا سکتی ہے۔
میاں عامر محمود کی اِس تجویز نے اب تک دانشور/تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر تو کیا ہے لیکن اسے کوئی بڑی تحریک بننے کے لئے وقت درکار ہے اور عوامی حمایت کی بھی ضرورت ہے،کیونکہ جہاں تک اختیارات کے حامل حضرات کا تعلق ہے تو وہ ابھی تک صوبوں کی تقسیم پر مائل نہیں ہو سکے، حالات یوں ہیں کہ قریباً سب جماعتوں نے جنوبی پنجاب صوبے کی تخلیق کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن عملی شکل اختیار نہیں کر سکا،حتیٰ کہ جنوبی پنجاب میں تاج محمد لنگاہ والی سرائیکی صوبہ کی تحریک والے بھی موجود ہیں۔اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ بھی موجودہ ہیئت حاکمہ ہی ہے کہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی سے نئے صوبے کے قیام کی منظوری لے کر سفارش کے ساتھ وفاقی حکومت کو ارسال کرنا ہے، جو قومی اسمبلی اور سینٹ سے مطلوبہ ترمیم کی منظوری لے گی، تو نیا صوبہ تشکیل پائے گا۔جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے تجویز و تحریک منظور ہو چکی لیکن تاحال وفاقی سطح کی کارروائی مکمل نہیں ہوئی اور صوبہ نہیں بن سکا،بلکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری سطح پر سیکریٹیریٹ بنا کر گذارہ کیا گیا ہے۔جنوبی پنجاب والوں کا مطالبہ تاحال زیر التواء ہے،اس کے علاوہ سندھ میں ایک بڑی سیاسی کشمکش ہے ایم کیوایم نئے صوبوں کے حق میں ہے بلکہ کراچی، حیدر آباد اور میرپور خاص کے رقبے پر مشتمل نیا صوبہ ”جناح پور“ بنانا چاہتی ہے، پیپلزپارٹی اور قوم پرست جماعتیں سخت مخالف ہیں، ایسی ہی ایک تحریک ہزارہ صوبہ کی بھی آرام کر رہی ہے اس نے گذشتہ ادوار میں بہت شدت اختیار کی اور ہزارہ صوبہ بنتا نظر آنے لگا تھا لیکن صوبائی سطح پر ناکامی ہوئی اور بانی تحریک کی وفات کے بعد یہ تحریک بھی سو گئی اس کی راہ میں رکاوٹیں بھی بہت ہیں۔
نئے صوبوں کے محرک چونکہ خود بلدیاتی نظام کا حصہ رہے اور ایک بڑے ضلع کے سربراہ بھی اس لئے ان کو خوبیوں اور خامیوں کا بہتر اندازہ ہے تاہم ان کو یہ بھی یاد ہو گا کہ جنرل مشرف کے ضلعی بلدیاتی نظام کے بعد جب صوبائی حکومتیں بنیں اور پنجاب اسمبلی وجود میں آئی تو اراکین اسمبلی کو ترقیاتی کاموں میں اپنی غیر موجودگی بہت محسوس ہوئی تھی اور جلد ہی وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو بلدیاتی قانون میں ترمیم پر مجبور کر دیا گیا اور اراکین اسمبلی کا عمل دخل بھی شامل ہوا اور پھر پولیس کو بھی الگ کر دیا گیا، ضلعی ناظم، ضلعی انتظامیہ تک محدود ہو گئے،اب بھی اسمبلیوں میں یہی ذہن موجود ہے،ان کو کبھی منظور نہیں ہو گا کہ ان کے اختیارات میں مداخلت ہو اس لئے یہ رکاوٹیں تو ہیں شاید انہی وجوہات کی بناء پر پہلے تعلیم یافتہ سوسائٹی کا ذہن بنانے والا عمل شروع کیا گیا ہے۔میں ذاتی طور پر تقسیم اختیارات کا حامی ہوں لیکن یہاں ماحول مختلف ہے کہ فرد اپنی ذات میں اختیارات مرکوز کر لیتا ہے،اگر اداروں کے اختیارات انفرادی طور پر استعمال نہ ہوں اور ادارہ جاتی نظام اپنی روح کے مطابق چلتا ہوتا تو شاید ایسی کسی تحریک کی ضرورت نہ ہوتی۔
اس تجویز کا ہم خیال ہونے کے باوجود میں بعض مشکلات کا ذکر کروں گا جن کے بارے میں شاید ابھی خیال نہیں کیا گیا یا ظاہر نہیں کیا گیا،سیاسی مداخلت اور تصور کا ذکر کر چکا ہوں کہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نئے صوبوں کی مخالفت موجود ہے تاہم اگر کسی طور اسے حل کر لیا جائے اور33صوبوں والی تجویز کی افادیت کے پیش نظر اسے پذیرائی ہو تو پھر قانونی اور آئینی پیچیدگیاں رکاوٹ بنیں گی،33صوبوں کی تشکیل کا مطلب موجودہ نظام میں تبدیلی ہے اور اس کے لئے آئینی ترمیم نہیں ترامیم کی ضرورت ہو گی کہ نو تشکیل شدہ صوبوں کے مطابق محکمے اور عملہ تو تقسیم کیا جا سکے گا تاہم جائیدادوں کی منتقلی مشکل عمل ہو گا، سب سے بڑی رکاوٹ عدالتی انصاف کی تقسیم ہو گی کہ اب پورے صوبے کے لئے ایک ہائیکورٹ ہے تو پھر اس صوبے میں سے جتنے بھی ڈویژن نئے صوبے بنیں گے، اتنی ہی عدالت عالیہ بھی بنانا ہوں گی۔یوں میرے خیال میں نئی تجویز کے مطابق وفاقی پارلیمانی نظام وفاقی نظام میں تبدیل ہو جائے گا اور سپریم کورٹ فیڈرل کورٹ کا درجہ اختیار کرے گی اور سب صوبائی عدالتیں اس کا حصہ ہوں گی، اس سب کے لئے پورے ایک آئینی پیکیج اور اتفاقِ رائے کی ضرورت پیش آئے گی۔ایسا اب تک قومی امور کے حوالے سے نہیں ہو سکا۔ یہ تو اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ، میرے خیال میں محرک اور ہمنوا دانشور حضرات کو اپنا کام کرتے رہنا چاہئے،ذہن سازی ہو گئی تو پھر رکاوٹیں بھی بتدریج دور ہو جائیں گی۔بہرحال چھوٹے صوبے بہتر ہوں گے۔

