بابر صاحب دین،کہنے کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ اٹھارہ کا ایک نوجوان افسر ہے مگر اس نے وہ کام کر دکھایا جو بڑے بڑے سینئر اور منجھے ہوئے افسر نہ کر سکے،وہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو افسر ہے مگر،، صفائی ستھرائی،، کے لئے اسکی شبانہ روز محنت نے لاہور اور پنجاب کا نام عالمی سطح کے فورمز اور بے شمار ترقی پزیر ملکوں میں بلند کر دیا ہے،چند روز پہلے فوربز میگزین نے،، ستھرا پنجاب ،، کے حوالے سے جو بہترین رپورٹ شائع کی وہ اپنی جگہ پر بہت اہمیت کی حامل ہے مگر پنجاب میں ایک عام آدمی سے بھی پوچھا جائے تو وہ بھی اس حوالے سے خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہا ہے اور اسکی یہ خوشی اور اطمینان بڑی بڑی رپورٹس پر بھاری ہے، اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے مگر اس آدھے ایمان کی طرف ہماری حکومتوں اور عوام کی توجہ کم ہی رہی ہے،یقینی طور پر بابر صاحب دین نے ستھرا پنجاب کے لئے لاہور کو ماڈل بنا کر بنیاد فراہم کی مگر وزیر اعلیٰ مریم نواز ،چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور محکمہ بلدیات نے اپنا مکمل وزن ستھرا پنجاب کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے بھی آئے ہیں جب قومیں دہائیوں کی تاخیر، بے ترتیبی اور غیر یقینی کو چیرتے ہوئے حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہیں، عام طور پر بڑے انقلاب لمبی مدت کی پالیسیوں سے پیدا ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھی حالات کے سینے پر ایک ایسا واقعہ درج ہو جاتا ہے جس کے پیچھے نہ کوئی شور ہوتا ہے، نہ سیاسی نعرے صرف ایک فیصلہ کن قیادت، واضح وژن اور عمل کی وہ شدت جو کسی نظام میں جان ڈال دیتی ہے، پنجاب کا حالیہ ’’سُتھرا پنجاب‘‘ پروگرام اسی نوعیت کی ایک بڑی کہانی ہے اور ایک ایسی پیش رفت جو شاید آج کے پاکستان کے لیے امید اور عملی تبدیلی کی سب سے روشن علامت بنی ہے۔
ستھرا پنجاب کی موجودہ کہانی جس کا آغاذ لاہور سے ہوا مجھے پسند ہے اور میں اس پر بار ہا لکھ بھی چکا ہوں،لاہور میں روزمرہ کی صفائی،سڑکوں کو دھویا جانا اور پھر عید الضحیٰ کے موقع پر جب ہم مسلمان ایک اسلامی فریضہ ادا کرتے ہوئے دوسرے اسلامی فریضے یعنی صفائی کو بھول کر ہر طرف آلائشوں کے ڈھیر لگا دیتے تو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ہمارا یہ ڈالا ہوا گند بھی اس طرح صاف کرتی جیسے یہ تھا ہی نہیں۔ لاہور سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب اس سرزمین پنجاب کے متعلق ہے جسے صوبہ کہنا کم ہے، 13 کروڑ کی آبادی، ہزاروں قصبے، 25 ہزار سے زیادہ دیہات، اور شہروں کا وہ سلسلہ جو برسوں سے ناقص صفائی، بکھرے ہوئے نظام، اور عدم توجہی کا شکار تھا۔ پنجاب کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کچرے کے ڈبے کم تھے یا گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں،اصل مسئلہ یہ تھا کہ نظام نام کا کوئی جال موجود ہی نہیں تھا، دیہات کو کبھی سرکاری طور پر صفائی کی باقاعدہ سہولت ملی ہی نہیں تھی ، جبکہ شہر بھی نیم جان، غیر مربوط اور غیر شفاف نظام کے رحم و کرم پر تھے۔لیکن پھر اس کہانی میں وہ موڑ اس وقت آیا جب موجودہ حکومت نے یہ احساس کیا کہ صفائی محض بلدیاتی مسئلہ نہیں، یہ صحتِ عامہ، معاشرتی وقار، شہری نظم و ضبط اور معاشی ترقی کے پورے تانے بانے کو متاثر کرتی ہے۔
فوربز میگزین نے اس کہانی کو بڑی دلچسپ انداز میں سنایا کہ ایک غیر معمولی سوال، جو صفائی کے اس انقلاب کی بنیاد بنا وہ پنجاب کے موجودہ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کا تھا جو انہوں نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سربراہ بابر صاحب دین سے پوچھا“آپ نے لاہور بدل دیا، کیا اس طرح پورا پنجاب بدل سکتا ہے؟”یہ سوال محض رسمی گفتگو نہیں تھا، ایک عملی چیلنج تھا،چیف سیکرٹری کا وژن تھا ، عمومی بیوروکریٹک روایت یہی رہی ہے کہ بڑے منصوبے آہستہ آہستہ آزمائے جاتے ہیں،پہلے پائلٹ منصوبہ، پھر چند اضلاع میں تجربہ اور آخر کار مکمل توسیع مگر ’’سُتھرا پنجاب‘‘ نے اس روایت کو توڑ دیا، فیصلہ ہوا کہ پورے پنجاب کو ایک ہی وقت میں کور کیا جائے گا،کوئی پائلٹ نہ تاخیر، بس فوری عمل،ہر چیز ڈیجیٹل اور شفاف ہوگی،ہر ادائیگی کارکردگی کے ڈیٹا سے منسلک ہوگی،اور پوری منصوبہ بندی آٹھ ماہ میں مکمل کی جائے گی ،یہ وہ لمحہ تھا جب ناممکن کو ممکن مان کر سفر شروع ہوا، پہلی بار شہر اور دیہات ایک صف میں کھڑے کر دیے گئے ،پاکستان میں سالہا سال سے شہروں اور دیہات کے درمیان بنیادی سہولیات کا فرق ایک تلخ حقیقت رہی ہے مگر ’’سُتھرا پنجاب‘‘ نے پہلی بار اس لکیر کو مٹا دیا۔آج پورے پنجاب میں روزانہ 50,000 ٹن کچرا جمع ہوتا ہے،ہر گاڑی، ہر روٹ اور ہر ڈمپنگ پوائنٹ ایک ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہے،پورا نظام مصنوعی ذہانت کے نظام کے تحت چلتا ہےہر، بن اور ویسٹ پوائنٹ کا ڈیٹا ریئل ٹائم ڈیش بورڈ پر موجود ہوتا ہے،یہ صرف تکنیکی ترقی نہیں انتظامی تہذیب کا نیا قدم ہے،ڈیٹا نے بدعنوانی کا دروازہ بند کر دیا قبل ازیں صفائی کا شعبہ بدعنوانی کے لیے سب سے نرم ہدف سمجھا جاتا تھا۔“گوسٹ ورک” “غائب گاڑیاں” “نامکمل روٹس”، اور جعلی وزن ، یہ سب کھلے راز تھے۔
مگر اب؟روٹ مکمل نہ ہو تو ادائیگی خودکار طور پر کم ہو جاتی ہے،فیول زیادہ ہو تو نظام فوراً الرٹ دیتا ہے۔وزن میں فرق ہو تو سینسر سے فوراً پکڑ میں آ جاتا ہے،اب فون کالیں چلتی ہیں نہ سفارش، نہ ہی فائلیں غائب ہوتی ہیں کیونکہ ڈیٹا کسی سفارش کو نہیں مانتا۔
یہ شاید پاکستان کی بیوروکریسی میں شفافیت کی سب سے بڑی مثال ہے،فنانسنگ کا نیا ماڈل خود انحصاری کا راستہ بن رہا ہے، اس نظام کو چلانے کے لیے تین ستون کھڑے کیے گئے،ہلکی اور مناسب صارف فیس،حکومتی بنیادی گرانٹس،کاربن کریڈٹس اور ویسٹ ٹو انرجی کی آمدن، ان سب کا پیسہ ایک ہی اکاؤنٹ میں جاتا ہے جس پر کسی سیاستدان یا کسی محکمے کی مداخلت ممکن نہیں،اسی مالیاتی شفافیت نے بینکوں کا اعتماد جیتا، جس کے بعد ہزاروں نئی گاڑیاں اور مشینری فنانس ہوئیں،یہ نظام آنے والے برسوں میں ریونیو پازیٹو ہو جائے گا،ایک ایسی بات جس کا تصور بھی چند سال پہلے ناممکن تھا۔
ایل ڈبلیو ایم سی کے چیف بابر صاحب دین کی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ “اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب حکومت پوری طاقت سے پیچھے کھڑی ہو،، اسی وجہ سے دنیا کی نظر پنجاب کے اس پر نظام پر ہے اور یہ نظام ان کے لئے ایک مثال بن چکا ہے، کوپ تھرٹی میں اسے دنیا کے سب سے بڑے مربوط ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے طور پر پیش کیا گیا،جکارتہ، نیروبی اور کئی ترقی پذیر شہر اس ماڈل کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں،کیونکہ یہ محض صفائی نہیں ایک فکری انقلاب ہے ، سُتھرا پنجاب کچرا اٹھانے کا صرف نظام نہیں ،یہ سوچ اور ترجیح کا بدلنا ہے،اور اس یقین کا لوٹ آنا ہے کہ اگر چاہا جائے تو پاکستان آج بھی اپنے مسائل کو پھلانگ کر آگے بڑھ سکتا ہے،یہ نظام بتاتا ہے کہ ترقی کا تعلق وسائل سے نہیں،قیادت، نظم اور شفافیت سے ہوتا ہے۔

