شینژو-20 کے ریٹرن کیپسول کی کھڑکی میں دراڑ پڑ گئی، عملہ متبادل شینژو-21 سے واپس لوٹا
بیجنگ (رائٹرز)چینی سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق چینی خلا باز جمعہ کی دوپہر زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان خلا بازوں کی واپسی اس وقت تاخیر کا شکار ہو گئی تھی جب گزشتہ ہفتے ان کے جہاز سے خلائی ملبہ ٹکرانے سے ریٹرن کیپسول کو نقصان پہنچا تھا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) نے پہلی مرتبہ ملبے کے سبب ہونے والے نقصان کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ شینژو-20 خلائی جہاز کے ریٹرن کیپسول کی چھوٹی کھڑکی میں ’چھوٹی دراڑیں‘ پائی گئی تھیں۔
ایجنسی کے مطابق متاثرہ کیپسول عملے کی محفوظ واپسی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، اس لیے شینژو-20 کو مدار میں ہی رکھا جائے گا اور متعلقہ تجربات وہیں انجام دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ خلا نورد تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر 6 ماہ کا مشن مکمل کرنے کے بعد 9 دن پہلے زمین پر واپس آنا چاہتے تھے، لیکن جب ریٹرن کیپسول میں دراڑ دریافت ہوئی تو واپسی روک دی گئی۔ عملہ بعد ازاں متبادل شینژو-21 خلائی جہاز کے ذریعے روانہ ہوا اور شمالی چین کے اندرونِ منگولیا کے ڈونگ فینگ لینڈنگ سائٹ پر اُتر گیا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مشن اپریل میں شروع ہوا تھا اور ملبے کے واقعے تک بخوبی جاری رہا۔ شینژو-20 کی مقررہ واپسی 5 نومبر کو تھی جو حادثے کے بعد ملتوی کر دی گئی تھی۔ 9 دن کی یہ تاخیر اگرچہ معمولی ہے، تاہم یہ اس پروگرام کے لیے غیر معمولی ہے جو ہمیشہ انتہائی باقاعدگی سے چلتا رہا ہے اور گزشتہ سال کئی اہم سنگِ میل عبور کر چکا ہے۔
چین کے خلائی پروگرام کے تحت 1990 کی دہائی میں جنم لینے والے خلا نوردوں کی تعیناتی، عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی اسپیس واک، اور آئندہ سال پہلے غیر ملکی خلا نورد (پاکستان سے تعلق رکھنے والے) کو تیانگونگ بھیجنے کی تیاریاں شامل ہیں۔

