بیجنگ/اسلام آباد/کابل(ایجنسیاں) — چین نے پاکستان اور افغانستان کی طرف سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مکمل و دیرپا جنگ بندی کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ بیجنگ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد آئندہ 48 گھنٹوں کیلئےایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو طالبان کی درخواست پر نافذ العمل ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے اس دوران مسئلے کے پائیدار حل کیلئےمثبت کوششیں جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی بدھ کو شام 6 بجے سے نافذ العمل ہوئی اور افغان طالبان حکومت نے اپنے فورسز کو پابندی کی ہدایت دی ہے۔ پاکستانی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی اور جنوبی سرحدوں پر رات بھر جھڑپیں نہیں ہوئیں، جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کی سرحد پر طالبان کے علیحدہ حملے کو پاکستانی فورسز نے ناکام بنایا۔
افغانستان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملے جوابی کارروائی کے طور پر کیے گئے، اور الزام لگایا کہ پاکستان نے پچھلے ہفتے اس کی سرزمین پر فضائی حملے کیے تھے۔ اسلام آباد نے اس کی تصدیق نہیں کی، لیکن واضح کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کیخلاف اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ فولکر ترک نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور دونوں فریقین سے اپیل کی کہ شہریوں کو مزید نقصان سے بچائیں اور دیرپا جنگ بندی کیلئےپرعزم رہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں ایک ہفتے میں تیسری بڑی سرحدی کشیدگی تھیں، جن میں پاکستانی فوج کے 23 اہلکار شہید اور 29 زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے سرحد پار پاکستانی چوکیوں پر حملے کیے۔ افغانستان کا موقف ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، جبکہ پاکستان بارہا کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔
یہ صورتحال دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر رہی ہے، اور چین نے اس کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کیلئےحمایت کا اعلان کیا ہے۔

