ڈنمارک کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر ڈرونز کی پرواز، کئی ہوائی اڈے بند

ڈنمارک(اے ایف پی / سی این این)ڈنمارک کے سب سے بڑے فوجی اڈے کے اوپر رات کے وقت نامعلوم ڈرونز دیکھی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں اسکینڈے نیوین ملک میں کئی ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ حکام نے اس واقعے کو ایک نئے دور کے ہائبرڈ حملے کے سلسلے کے طور پر بیان کیا ہے۔

ڈنمارک کے پولیس اہلکار اور فوجی حکام کے مطابق، یہ واقعہ پیر سے شروع ہوا جب پہلی بار ڈرونز دیکھی گئیں۔ ڈیوٹی آفیسر سائمن اسکیلسیئر نے بتایا کہ گزشتہ شام تقریباً 8:15 بجے (پاکستانی وقت رات 11:15) ایک یا دو ڈرون فوجی اڈے کے باہر اور اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

پولیس ابھی تک یہ تعین نہیں کر سکی کہ ڈرون کہاں سے آئے، اور تفتیش میں فوج کے ساتھ تعاون جاری ہے۔ کاروپ فوجی اڈہ، جو مڈجائلینڈ کے سول ایئرپورٹ کے ساتھ مشترکہ رن ویز استعمال کرتا ہے، عارضی طور پر بند کیا گیا۔ تاہم تجارتی پروازوں پر اثر نہیں پڑا کیونکہ اس وقت کوئی پرواز طے نہیں تھی۔

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے عوام کو بتایا کہ یہ ہائبرڈ حملے غیر روایتی جنگ کی ایک نئی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں، اور یورپ کو اس نئے خطرے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے براہِ راست روس کو الزام نہیں دیا، کیونکہ ابھی شواہد ناکافی ہیں اور الزام تراشی ماسکو کے مقاصد کو تقویت دے سکتی ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بغیر کسی گولی چلائے یوکرین کے تنازع کو یورپ کے محفوظ رہنے والے لاکھوں باشندوں تک پہنچا دیا ہے، جس سے یہ دھماکے کے بغیر ایک دبے انداز کا جنگی اثر پیدا ہوا ہے۔

ڈنمارک میں یہ غیر یقینی صورتحال ہائبرڈ حملوں کی علامت ہے، جہاں حملہ آور کی شناخت یا روک تھام فوری طور پر ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور چاہتے ہیں کہ عوام اپنی حکومتوں پر اعتماد نہ کریں، اور یہی صورتحال پورے یورپ میں دہرائی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں