واشنگٹن( ٹیلیگراف، اے ایف پی، الجزیرہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق یہ تبدیلی سعودی عرب، قطر اور عمان کی ہنگامی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی، جنہوں نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی موخر کرنے پر آمادہ کیا۔
اخبار کے مطابق خلیجی ممالک نے مؤقف اختیار کیا کہ تہران کو اپنے ’’اچھے عمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر یقینی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا کہ ایران میں ہلاکتیں رک رہی ہیں۔
اسی فیصلے سے کچھ دیر قبل ایران نے احتجاج کرنے والوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ روک دیا تھا۔ ایک سینئر سعودی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ آخری لمحات میں کی گئی طویل اور تھکا دینے والی سفارتی کوششوں کے ذریعے صدر ٹرمپ کو قائل کیا گیا، جبکہ یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ حملے کے خطے میں نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔
سعودی عہدیدار کے مطابق یہ بموں کو ڈی فیوز کرنے کی ایک بے خوابی والی رات تھی۔ ترکیہ اور مصر نے بھی صدر ٹرمپ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ ایران پر امریکی حملے کے پڑوسی ممالک اور عالمی تیل و گیس کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر حملہ صرف اسی صورت کیا جائے گا جب اس کے ایرانی حکومت پر فیصلہ کن اثرات ہوں۔ دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی سزائے موت روکے جانے کو ’’اچھی خبر‘‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔

