ڈونلڈ ٹرمپ نے ہزاروں امریکی ملازمین کی برطرفی کی وجہ شٹ ڈاؤن کو قرار دے دیا

واشنگٹن (رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی حکومت کے ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرا دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ان برطرفیوں کی بنیادی وجہ ممکنہ حکومتی شٹ ڈاؤن کو قرار دیا ہے۔ یہ برطرفیاں مختلف وفاقی اداروں میں عمل میں لائی جا رہی ہیں جن میں محکمہ خزانہ، صحت، تعلیم، تجارت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں نے تصدیق کی کہ ملازمتوں میں بڑی سطح پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم برطرف ہونے والے ملازمین کی کل تعداد تاحال واضح نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق، یہ اقدام ممکنہ سرکاری شٹ ڈاؤن سے منسلک ہے جو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان بجٹ اور فنڈنگ کے معاملات پر جاری تعطل کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ برطرفیاں ڈیموکریٹس کی پالیسیاں اور مالی رکاوٹوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ سب انہوں نے شروع کیا ہے، اور اس کے اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں۔”

ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہے، تاہم حکومت کی فنڈنگ کے کسی بھی قانون کی منظوری کے لیے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی حمایت ضروری ہے۔

ڈیموکریٹس نے واضح کیا ہے کہ وہ صحتِ عامہ کی انشورنس سبسڈی میں توسیع کے مطالبے پر قائم ہیں، تاکہ 2 کروڑ 40 لاکھ امریکی شہریوں کو ’افورڈیبل کیئر ایکٹ‘ کے تحت حاصل سہولیات برقرار رہیں۔

دوسری جانب، امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق سات وفاقی اداروں میں 4 ہزار 200 سے زائد ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان میں محکمہ خزانہ کے تقریباً 1,400 اور محکمہ صحت و انسانی خدمات کے کم از کم 1,100 ملازمین شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کانگریس میں فنڈنگ بل پر اتفاق نہ ہوا تو سال کے اختتام تک مزید 3 لاکھ وفاقی سول ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں مالی نظم و ضبط اور قومی سلامتی کے تحفظ کو اولین حیثیت حاصل ہے، تاہم ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ عوامی فلاحی اسکیموں میں کٹوتیاں امریکی معاشرے کے کمزور طبقے کو نقصان پہنچائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں