واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد مجموعی محصولات کی شرح 50 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اقدام بھارت کی روس سے تیل درآمدی پالیسی پر ردعمل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
امریکی صدر نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بھارت پر اضافی 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت پر عائد مجموعی تجارتی محصولات کی شرح اب 50 فیصد ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے روس سے براہ راست یا بالواسطہ تیل کی درآمد کے باعث کیا گیا ہے۔ نئے ٹیرف کا اطلاق جمعرات 7 اگست سے ہوگا، جب کہ آج جاری کردہ حکم نامے کے تحت مزید محصولات کا نفاذ تین ہفتوں بعد متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا“یہ ضروری اور مناسب اقدام ہے کیونکہ بھارت کی حکومت روسی توانائی کا خریدار بنی ہوئی ہے، جو یوکرین پر حملے کے باوجود جاری ہے۔”واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ بھارت پر موجودہ 25 فیصد ٹیرف کو مزید بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا “بھارت ایک اچھا تجارتی پارٹنر نہیں رہا، وہ ہم سے بہت زیادہ کاروبار کرتا ہے مگر ہم ان سے نہیں۔ اسلئےہم نے ابتدائی 25 فیصد ٹیرف لگایالیکن اب میں نمایاں طور پر بڑھا رہا ہوں کیونکہ وہ روسی تیل خرید رہے ہیں۔”
قبل ازیں، 30 جولائی کو صدر ٹرمپ نے بھارت پر ابتدائی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ بھارت پر روس سے فوجی ساز و سامان اور تیل کی خریداری پر مزید پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔
اس پر بھارتی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ”2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے خود بھارت کو روس سے تیل خریدنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں توانائی کا توازن قائم رکھا جا سکے۔”
بیان میں مزید کہا گیا”جب امریکا خود روس سے جوہری صنعت کیلئےیورینیم، برقی گاڑیوں کیلئے پیلیڈیم، کھاد اور کیمیکل درآمد کر رہا ہے تو بھارت پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔”
اعداد و شمار کے مطابق، بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور روس کا سب سے بڑا خام تیل خریدار بھی بن چکا ہے۔ بھارت کی خریداری روس کیلئےیوکرین جنگ کے دوران اہم مالی ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
امریکہ نے بھارت پر دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت زیادہ ٹیرف عائد کیا ہے۔ موازنہ کے طور پرویتنام پر ٹیرف: 20٪،انڈونیشیا پر ٹیرف: 19٪اورجاپان اور یورپی یونین: 15٪ہے.
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے پاکستان کیلئے رعایت کا اعلان کرتے ہوئے وہاں کی درآمدات پر ٹیرف 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دیا ہے۔ یہ نئی شرح بھی 7 اگست سے نافذ العمل ہوگی۔

