ڈونڈٹرمپ سے پھر ایک اور ملاقات

دنیا کی سیاست میں بعض ملاقاتیں رسمی ہوتی ہیں، بعض تاریخی، اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو خبروں کے ہجوم میں موجود ہونے کے باوجود راز بن کر رہ جاتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوسری ملاقات بھی انہی میں سے ایک ہے۔

اسی سال 19 جون کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے ایک دوپہر کے کھانے پر ملاقات کی تھی۔ اس وقت ساری دنیا کے میڈیا کیلئےیہ لمحہ غیر متوقع تھا کیونکہ اس ملاقات کا نہ تو کوئی باضابطہ اعلان ہوا اور نہ ہی کسی صحافی کو اندر جانے کی اجازت ملی۔ میڈیا کو صرف ایک تصویر ملی جس میں جنرل صاحب پیدل وائٹ ہاؤس میں داخل ہو رہے تھے۔ اس تصویر نے کئی سوالات کو جنم دیا مگر جوابات کہیں نہ ملے۔

اب 25 ستمبر کو دوبارہ ایک ملاقات ہوتی ہے۔ اس بار فرق یہ تھا کہ تصاویر دنیا بھر کے میڈیا پر شائع ہوئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ لیکن خبر پھر بھی وہی رہی جو وائٹ ہاؤس نے بتائی: صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنےوزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کے حق میں چند تعریفی جملے ادا کیےاور کہا وہ ان کا “یہیں کہیں اسی کمرے میں” انتظار کر رہے ہیں وہاں موجود صحافیوں نے اس جملے پر قہقہہ لگایا اور بات آئی گئی ہو گئی۔

پاکستانی میڈیا نے ملاقات کے بعدایک اعلامیہ بھی جاری کیاہے جو وزیراعظم شہبازشریف کے آفس کی جانب سے فراہم کیا گیا، مگر اس میں بھی محض خوشگوار تعلقات اور باہمی تعاون کی عمومی باتیں درج تھیں۔ اصل گفتگو کیا ہوئی اس پر مکمل خاموشی چھائی رہی۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیوں دونوں ملاقاتوں میں میڈیا کو اصل گفتگو سے دور رکھا گیا؟ جب دو اہم شخصیات بند دروازوں کے پیچھے بات کریں اور دنیا کو صرف مسکراتی تصاویر دکھائی جائیں تو تجسس بڑھنا فطری ہے۔ کیا یہ شفافیت سے گریز ہے یا کسی بڑی اسٹریٹجک ڈیل کا ابتدائیہ؟

قیاس آرائیاں کئی سمتوں میں کی جا رہی ہیں. کیا امریکہ پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو کسی حد تک متوازن کرے؟ یوکرین جنگ کے پس منظر میں روس کے ساتھ پاکستان کے روابط پر بھی واشنگٹن کی نظریں ہیں۔ کیا ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر بات ہوئی؟ یا ایران-پاکستان سرحدی معاملات زیربحث آئے؟

حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ کیا یہ ملاقات اس تناظر میں ہوئی؟یاسب سے اہم کہ کہیں پردے کے پیچھے اسرائیل کے ساتھ کسی نئے باب کی تیار ی ہےیاڈونلڈٹرمپ کی خواہش پربگرام ائیربیس افغانستان.

قابل غور بات یہ ہے کہ دونوں ملاقاتوں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے پہلی ملاقات پر خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ امریکہ کے میڈیا نمائندوں کو صرف چند رسمی جملے سنائے گئے۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ کوئی ایسی بات ضرور ہوئی ہے جو فی الحال منظرِ عام پر لانا مناسب نہیں سمجھی گئی۔

پاکستانی عوام اور میڈیا میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ آخر اس خفیہ نوعیت کی گفتگو میں ایسا کیا ہے جسے چھپانا ضروری سمجھا گیا؟ اگر یہ ملاقات محض رسمی نوعیت کی ہوتی تو اس کی تفصیلات بتانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی۔ شکوک و شبہات اسی خلا سے جنم لے رہے ہیں۔

کیا یہ ملاقاتیں مستقبل کی کسی بڑی اسٹریٹجک سمت کا پیش خیمہ ہیں؟ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کسی نئے موڑ کی تیاری ہو رہی ہے؟ یا یہ محض معمول کی بات چیت تھی جسے زیادہ اہمیت دے دی گئی؟ ان سوالات کے جواب وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ فی الحال حقیقت یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی دیواروں کے اندر جو کچھ ہوا، وہ چند مسکراتی تصویروں اور رسمی بیانات کے سوا عوامی علم میں نہیں آ سکا۔ اور یہی خاموشی اصل خبر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں