ڈھاکا: بنگلہ دیشی فضائیہ کا تربیتی طیارہ کالج پر گر کر تباہ، 19 جاں بحق، 50 زخمی

ڈھاکا (نامہ نگار)بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ایک افسوسناک حادثے میں بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ شہری آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

واقعہ ڈھاکا کے شمالی علاقے اُتّرا میں واقع مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج میں پیش آیا جہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں۔ بنگلہ دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایف-7 بی جی آئی (F-7BGI) تربیتی طیارہ دوپہر 1 بج کر 6 منٹ پر پرواز کے فوراً بعد گر کر تباہ ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق طیارہ کالج کی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف آگ اور دھواں پھیل گیا۔ سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر جاری ہونے والی فوٹیج میں جائے وقوعہ پر دھوئیں کے گھنے بادل، آگ کے شعلے، اور فائر بریگیڈ کی جانب سے امدادی کارروائیاں دکھائی دے رہی ہیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری کے مطابق 50 سے زائد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ ڈھاکا میڈیکل کالج کے برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر بدھن سرکر نے تصدیق کی کہ تیسری جماعت کا ایک طالبعلم مردہ حالت میں لایا گیا، جب کہ دیگر زخمیوں کی عمریں 12، 14 اور 40 برس کے درمیان ہیں۔

اسکول کے استاد مسعود طارق نے بتایا کہ “جب میں بچوں کو لینے گیٹ پر پہنچا تو پیچھے زور دار آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو آگ اور دھواں ہی دھواں تھا۔” ویڈیوز میں متاثرہ افراد کو چیختے، روتے اور ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے دیکھا گیا۔

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا اور متاثرین کو مکمل مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا، “ایئر فورس، طلبہ، والدین اور اساتذہ کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ ناقابل تلافی ہے۔”

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند ہفتے قبل بھارت کے شہر احمد آباد میں ’ایئر انڈیا‘ کا ایک طیارہ میڈیکل کالج کے ہوسٹل پر گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں 241 مسافر اور 19 زمینی افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو دہائی کی سب سے بڑی فضائی آفت تصور کی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیشی فضائیہ اور مقامی حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ شہر کی فضا سوگوار ہے جبکہ متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں