اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹا کو محفوظ بنانے کیلئےقانون سازی روکنے کیلئے بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کمیٹی میں ملک بھر میں ڈیٹا چوری، پی ٹی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے معاملات اور پی ٹی اے کی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔
پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے دائرہ کار میں آنے والے تمام اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام فراہم کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں پی ٹی سی ایل اور یوفون کے بورڈ ممبران کے نام فراہم نہیں کیے گئے، حالانکہ یہ عوامی معلومات ہیں اور کمیٹی کو فراہم کی جانی چاہئیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بورڈ ممبران کو ایک میٹنگ کے 5 ہزار ڈالرز تک معاوضہ ملتا ہے اور غیر ملکی دورے بھی کیے جاتے ہیں، اس پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں، وزارت آئی ٹی کو آڈٹ کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینا ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں ڈیٹا چوری کے واقعات تشویش ناک ہیں اور لاکھوں پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کیلئے اپلائی کرنیوالے تقریباً 3 لاکھ افراد کا ڈیٹا بھی ڈارک ویب پر موجود ہے، حکومت کو اعلیٰ درجے کا ڈیٹا سینٹر قائم کرنا چاہیے تاکہ قومی ڈیٹا کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ پاکستان میں ڈیٹا کی چوری الگ الگ اداروں سے کی جاتی ہے اور پھر اربوں روپے مالیت کا ڈیٹا بیچا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیٹا پروٹیکشن کیلئے قانون نہ بنایا گیا تو ملک کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ایسا قانون نہ بنایا جائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کے دوران زیادہ تر حساس معلومات سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے اکٹھی کی تھیں۔
وزارت آئی ٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
کمیٹی نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی اجلاس میں غیر حاضری پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم کو اجلاس کے دن وزیر آئی ٹی اور سیکریٹری کو کسی اور میٹنگ میں نہ بلانا چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کو ہدایت کی کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ ملک کے شہریوں کا حساس ڈیٹا محفوظ بنایا جا سکے۔

