اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے، اور ایسے ماحول میں کابل کے حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا حقیقت سے بعید ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ “کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاک فوج یہ جنگ صرف سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز حصوں میں لڑ رہی ہے، آج اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں خودکش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ پورے پاکستان کی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاک فوج روز قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلا رہی ہے، تاہم کابل کے حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی امید رکھنا عبث ہے۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ “کابل حکمران پاکستان میں دہشت گردی روک سکتے ہیں، مگر اسلام آباد تک یہ جنگ لانا دراصل کابل سے ایک پیغام ہے، جس کا جواب دینے کی پوری قوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔”
واضح رہے کہ آج دوپہر اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 36زخمی ہوگئے تھے۔سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی نیوز‘ کے مطابق، بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنۃ الخوارج نے خودکش حملہ کیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ سخت سیکیورٹی کے باعث حملہ آور کچہری میں داخل نہ ہوسکا اور موقع ملنے پر اس نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اُڑا دیا۔پمز اسپتال ذرائع کے مطابق 12 لاشیں اور 36سے زائد زخمی ہسپتال منتقل کیے گئے، جبکہ وزیرِ داخلہ نے مجموعی طور پر 27 زخمیوں کی تصدیق کی۔

