کابل (رائٹرز، اے ایف پی، ہندستان ٹائمز، امو نیوز، کابل ٹریبون، وزارتِ خارجہ افغانستان)جمعرات کی شب افغانستان کے دارالحکومت کابل میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کی آواز سنی گئی ہے تاہم عوام کو تشویش کی کوئی ضرورت نہیں، تحقیقات جاری ہیں۔
افغان خبر رساں ادارے امو نیوز کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ کابل میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جن کے بعد فضا میں طیارے کی گونج بھی سنی گئی۔کابل ٹریبون نے متعدد رہائشیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکے کابل ایئرپورٹ کے قریب سنے گئے۔ تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا”کابل شہر میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔ عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، سب خیریت سے ہے، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔”
دوسری جانب، یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سرکاری دورے پر بھارت پہنچے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا”ہم امیر خان متقی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر بات چیت کے خواہاں ہیں۔”یہ طالبان کی جانب سے بھارت کا پہلا وزارتی سطح کا دورہ ہے جو اگست 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ افغان وزیر 16 اکتوبر تک بھارت میں قیام کریں گے۔

