(کابل (نمائندہ خصوصی، خامہ پریس، افغان جرنلسٹس سینٹر)افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان مخالف بیانیہ پیش نہ کرنے پر ملک کے دوسرے بڑے نشریاتی ادارے شمشاد ٹی وی کی نشریات معطل کر دی ہیں، جس پر میڈیا تنظیموں نے معاملے کی وضاحت اور نشریات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان نشریاتی ادارے خامہ پریس کے مطابق طالبان حکام اور شمشاد ٹی وی کے نمائندے اس بندش پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کر رہے۔ شمشاد ٹی وی خطے اور سیاسی معاملات پر نسبتاً آزادانہ رپورٹنگ کرنے والے چند اداروں میں شامل تھا۔
افغان جرنلسٹس سینٹر (اے ایف جے سی) نے ہفتے کو بتایا کہ کابل انتظامیہ نے شمشاد ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اے ایف جے سی کے مطابق جمعے کی شام یہ حکم طالبان کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے براہِ راست جاری کیا گیا۔
ادارے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے کابل اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی مناسب کوریج نہیں کی اور پاکستان کے فضائی حملوں کے دوران کابل کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا۔
افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اے ایم ایس او) نے بھی ٹی وی کی نشریات کی بندش کی تصدیق کی اور کہا کہ طالبان کے میڈیا حکام نے شمشاد کی انتظامیہ کو بتایا کہ یہ حکم قندھار سے آیا ہے، جو تحریک طالبان کا سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اے ایف جے سی اور اے ایم ایس او نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد میڈیا کے کام میں صریح مداخلت قرار دیا اور فوری طور پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق اے ایف جے سی نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چار برسوں میں طالبان نے ملک میں میڈیا کے ماحول کو سختی سے محدود کیا ہے، جس میں وسیع پابندیاں، میڈیا اداروں کو بند کرنا، اور صحافیوں کو گرفتار یا دھمکانا شامل ہے۔
طالبان اس سے قبل بھی کئی دیگر میڈیا نیٹ ورکس کی سرگرمیاں معطل کر چکے ہیں۔ افغان جرنلسٹس سینٹر نے بتایا تھا کہ طالبان کی جانب سے زندہ مخلوقات کی تصاویر نشر کرنے پر پابندی کے احکامات ملک کے 20 سے زائد صوبوں میں نافذ کیے جا چکے ہیں۔

