کراچی (بیورورپورٹ)– کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشا کے خلاف امتناعِ منشیات کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کردی۔ ملزمہ نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔
ملزمہ نتاشا کو عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے تفتیشی افسر اور استغاثہ کے گواہان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کردی۔ملزمہ کے وکیل نے ٹرائل کے دوران حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر رکھی تھی، جس پر عدالت نے پراسیکیوٹر سے 3 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
امتناعِ منشیات کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ بہادر آباد میں درج کیا گیا۔19 اگست 2024 کو کراچی کارساز روڈ پر تیز رفتار گاڑی بے قابو ہو کر راہ گیروں پر چڑھ دوڑی تھی۔حادثے میں باپ بیٹی (عمران عارف اور آمنہ) جاں بحق اور 4 شہری زخمی ہوئے۔ملزمہ کو موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔
6 ستمبر 2024 کو جاں بحق باپ بیٹی کے لواحقین اور ملزمہ کے درمیان صلح نامہ جمع کرایا گیا۔اہل خانہ نے “بغیر کسی دباؤ کے اللہ کے نام پر معاف کرنے” کا حلف نامہ عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے ملزمہ کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ملزمہ کے شوہر دانش اقبال کی ضمانت بھی 50 ہزار روپے میں توثیق کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، ملزمہ کے اہل خانہ نے جاں بحق افراد کے ورثا کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کی رقم پے آرڈر کے ذریعے ادا کی۔معاہدے کے تحت لواحقین میں سے ایک فرد کو کمپنی میں ملازمت دینے کی شق بھی شامل تھی۔زخمیوں کے ساتھ بھی علیحدہ مالی تصفیہ کیا گیا۔معاہدہ شرعی قوانین کے تحت طے پایا۔

