کارنی نے سابق کنزرویٹو ایم پی کی پارٹی میں شمولیت کو ’انتہائی قیمتی اضافہ‘ قرار دیا

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ سابق کنزرویٹو رکنِ پارلیمنٹ کرس ڈی اینترمونٹ کی لبرل پارٹی میں شمولیت حکومت کیلئے’انتہائی قیمتی اور اہم‘ ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے منگل کے روز نیا وفاقی بجٹ پیش کیا۔

نووا اسکاٹیا سے منتخب ایم پی کرس ڈی اینترمونٹ نے منگل کو کنزرویٹو پارٹی سے استعفیٰ دے کر لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اپریل کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں پارٹی بدلنے والے پہلے رکنِ پارلیمنٹ بن گئے ہیں۔

بدھ کے روز اوٹاوا میں بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیرِاعظم کارنی نے کہا”میں خاص طور پر کرس ڈی اینترمونٹ، رکنِ پارلیمنٹ برائے اکادی-انناپولس، کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں انہیں اپنی حکومت کی پارلیمانی کاکس کے نئے رکن کے طور پر خوش آمدید کہہ رہا ہوں۔”

انہوں نے مزید کہا”کرس کا اس اہم موقع پر حکومت کی صفوں میں شامل ہونا ہمارے ملک کے لیے انتہائی قیمتی اور معنی خیز ہے۔”

کارنی کی حکومت اقلیتی حکومت ہے جو اپریل کے انتخابات میں معمولی فرق سے اکثریت حاصل کرنے سے محروم رہی تھی۔لبرل پارٹی کے پاس 170 نشستیں ہیں جبکہ ایوان میں اکثریت کیلئے 172 نشستیں درکار ہیں۔

ڈی اینترمونٹ کی شمولیت نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا مزید اراکین بھی لبرل صفوں میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے حکومت ممکنہ طور پر اکثریت حاصل کر لے۔پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کرس ڈی اینترمونٹ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں محسوس کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کی پالیسیوں اور طرزِ سیاست سے متفق نہیں ہیں۔

“وقت آ گیا ہے کہ ہم واقعی ملک کی قیادت کریں، اسے بہتر بنائیں، نہ کہ ہر وقت منفی سیاست کریں۔”انہوں نے اشارہ دیا کہ دیگر اراکینِ پارلیمنٹ بھی ممکنہ طور پر اسی سوچ کے حامل ہیں۔”یقیناً کچھ اور لوگ بھی اسی کشتی میں سوار ہیں، جو ایسا سوچتے ہیں۔”

کنزرویٹو پارٹی نے ایک بیان میں ڈی اینترمونٹ کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔”کنزرویٹو اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ کرس ڈی اینترمونٹ نے اپنی ذاتی ناراضی،خصوصاً ڈپٹی اسپیکر نہ بننے کی شکایت کو عوام سے کیے گئے وعدوں پر ترجیح دی۔”

ڈی اینترمونٹ، جو 2021 سے اپریل 2025 تک ڈپٹی اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، اسپیکر کے انتخاب میں کنزرویٹو کاکس کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔کنزرویٹو ایم پی جسرج سنگھ ہالن نے ان کے فیصلے کو “بزدلانہ” قرار دیا۔ جواب میں ڈی اینترمونٹ نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کو “خود پر نظر ڈالنی چاہیے” کہ کیا وہ واقعی ملک کیلئےتعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا”کینیڈا کے پاس ایک شاندار موقع ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے مل کر آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرنے چاہییں اور یہی میں اپنے پورے کیریئر میں کرتا آیا ہوں۔”

ڈی اینترمونٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا فیصلہ بجٹ میں موجود منصوبوں کی وجہ سے تھا جو ان کے انتخابی حلقے کی ترجیحات سے مطابقت رکھتے ہیں۔”یہ بجٹ ان ترجیحات کو پورا کرتا ہے جو میں نے اپنے حلقے میں سب سے زیادہ سنی ہیں، مضبوط کمیونٹی انفراسٹرکچر اور مستحکم معیشت کی تعمیر۔ اسی لئے میں نے حکومت کی کاکس میں شمولیت اختیار کی ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں