کاشتکار کا نوحہ

ان دنوں آلو کا ٹکہ ٹوکری ہونا محض ایک فصل کی ناکامی نہیں ، یہ پنجاب کے اس کاشتکار کی اجتماعی بے بسی کا نوحہ ہے جو گندم ، گنے اور دوسری زرعی اجناس کے بعد اب آلو کی فصل میں بھی خوار بلکہ ذلیل و خوار ہو گیا ہے ، آج پنجاب کے کھیتوں میں آلو موجود ہے مگر اس کی قیمت نہیں،محنت ہے مگر اس کا صلہ نہیں، سرمایہ لگا ہے مگر واپسی صفر ہے، یہ وہ المیہ ہے جس نے ہزاروں نہیں لاکھوں دیہی خاندانوں کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے،جس کے اثرات کا کسی شہری معیشت دان اور حکمران کو اندازہ ہی نہیں ہےکاش،ایک کاشتکار بھی شوگر ملز مالکان کی طرح اتنا بااختیار اور حکومتی پہنچ والا ہوتا کہ اپنی مرضی سے ذخیرہ کرتا ،حکومتی سرپرستی میں ایکسپورٹ کرتا اور اسی چینی کو پھر حکومتی آشیر باد سے مہنگے داموں امپورٹ کراتا ۔ پنجاب میں آلو ایک عام سبزی نہیں بلکہ ایک بڑی نقد آور فصل اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بھی تھا،وسطی پنجاب، خصوصاً ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، پاکپتن،وہاڑی،خانیوال ، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے اضلاع میں آلو کی کاشت ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہوتی ہے، پچھلے چند برسوں میں کاشتکار کو گندم پر سپورٹ پرائس نہ ملنے، گنے کی ادائیگیوں میں تاخیر اور شوگر ملز کے استحصال کے بعد امید تھی کہ آلو کچھ سہارا دیگا اس لئے اسکی کاشت بھی کچھ زیادہ کی گئی ، مگر اس بار آلو خود ایک عذاب اور قہر بن کر کاشتکار کی کمر بھی توڑ گیا ۔

حکومت بظاہر یہ وجہ بتا رہی ہے کہ آلو کی پیداوار بہت زیادہ ہو گئی تھی ، سپلائی بڑھ گئی اور قیمت گر گئی، مگر یہ آدھا سچ ہے، پورا نہیں، اصل مسئلہ منڈیوں کی بدانتظامی، حکومتی عدم دلچسپی، برآمدات کی ناکامی اور پالیسی لیول پر مجرمانہ غفلت ہے، آج صورتحال یہ ہے کہ منڈی میں آلو 15 سے 20 روپے کلو بک رہا ہے، جبکہ کاشتکار کی لاگت ہی 30 سے 35 روپے فی کلو سے کم نہیں، یعنی ہر بوری پر نقصان، ہر ایکڑ پر خسارہ اور ہر دن پر قرض، سب سے بڑا دھچکا افغانستان بارڈر کی بندش سے لگا ،برسوں سے پنجاب کا آلو افغانستان، وسط ایشیائی ریاستوں اور جزوی طور پر ایران کی منڈیوں میں جاتا رہا ہے، یہ ایک قدرتی مارکیٹ تھی، جس میں آلو کی کھپت بھی تھی ، قیمت بھی اور قیمتی زرمبادلہ بھی ، مگر اچانک سرحدی بندش، کلیئرنس کے مسائل، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سفارتی سرد مہری نے اس راستے کو تقریباً بند کر دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ آلو جو باہر جانا تھا، وہ اندر ہی اندر گل سڑ گیا۔

ہماری معیشت میں زراعت کی حیثیت ریڑ ھ کی ہڈی جیسی ہے، پنجاب پاکستان کا دل ہے جسکی ساٹھ فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے، اس کے سرسبز کھیت، فصلوں کی لہلہاہٹ، اور کسانوں کی محنت و مشقت پورے ملک کو خوراک مہیا کرتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہی کسان جس کے خون پسینے سے یہ زمین زرخیز ہوتی ہے، بدترین معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، خاص طور پر گندم کی کم قیمت اور پنجاب حکومت کی بے حسی نے کسان کو نہ صرف مالی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا بلکہ ان کے دلوں میں مایوسی اور محرومی کی آگ بھڑکا دی ہے جو ملک کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،ایک طرف کھاد، بیج، زرعی ادویات اور پانی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اوپر سے زرعی ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے ،اس زرعی ٹیکس کا نفاذ بھی ایک جیسا نہیں ،اس کا ریٹ فصل اور سال کی بنیاد پر یکساں ہونا چاہئے،مگر کاشتکار کی آواز اسمبلی کے ایوانوں میں ہی خاموش کرا دی جاتی ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے وفاق کے ساتھ اس مسئلے پر کیس کیوں نہیں لڑا؟ زراعت صوبائی سبجیکٹ ہے، مگر خارجہ پالیسی اور بارڈر مینجمنٹ وفاق کے ہاتھ میں ہے، ایسے میں ایک ذمہ دار صوبائی حکومت کا فرض تھا کہ وہ وفاق پر دباؤ ڈالتی، باقاعدہ سمریاں بھیجتی، اقتصادی رابطہ کمیٹی میں معاملہ اٹھاتی اور کسان کے مفاد کو قومی مسئلہ بنا کر پیش کرتی، مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو سبسڈی، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، سستے قرضے، اور بہتر مارکیٹنگ سہولیات دے کر زراعت کو فروغ دے رہے ہیں، وہاں ہماری حکومت کسانوں کے مسائل سے نہ صرف آنکھیں چرا رہی ہے بلکہ اسے مجبور کر رہی ہے کہ وہ کوئی اور کام کر لیں۔مسئلہ صرف آلو ،گنا اور گندم کا نہیں بلکہ پورے زرعی نظام کا ہے، پنجاب کے دیہی علاقوں میں آج بھی کسانوں کی اکثریت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے محروم ہے، تحقیقاتی ادارے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں نہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں، نتیجتاً، کسان کا انحصار روایتی طریقوں پر ہے جو غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں، حکومت کی اکثر کسان دوست اسکیمیں صرف اشتہاروں تک محدود ہیں، عملی طور پر اُن سے کسان کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

آج آلو ہی نہیں، دوسری زرعی اجناس کا حال بھی مختلف نہیں، سبزیوں ،تلوں،کنولا کی قیمتیں کاشتکار کے لیے زمین بوس ہیں، مگر صارف کے لیے آسمان پر، یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ پیداوار کا نہیں، سسٹم کا ہے، آڑھتی، ذخیرہ اندوز اور منڈی مافیا درمیان میں بیٹھا ہے جو کسان کو لوٹتا اور صارف کو نچوڑتا ہے، جبکہ ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،کاشتکار کی پریشانی صرف مالی نہیں، نفسیاتی بھی ہے، جو کسان فصل ہونے کے بعد خوش ہوتا تھا، آج وہ آلو زمین سے نکالنے سے ڈر رہا ہے، جو زمین کو ماں کہتا تھا، آج وہی زمین اس کے لیے قرض کا بوجھ بن چکی ہے، بینک لون، کھاد کا ادھار، بیج کی قیمت، ڈیزل کے اخراجات سب کچھ بڑھ چکا ہے، مگر آمدن صفر کے قریب ہے، یہی وجہ ہے کہ دیہات میں خودکشیوں، زمین بیچنے اور شہروں کی طرف ہجرت کی خبریں اب غیر معمولی نہیں رہیں۔

حکومت کے پاس اگر نیت ہو تو حل ناممکن نہیں، سب سے پہلے آلو اور دیگر اجناس کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر ایکسپورٹ چینل کھولنا ہوگا، افغانستان کے ساتھ بارڈر پر زرعی اجناس کے لیے خصوصی کوریڈور بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا، وسط ایشیا کے لیے ریلوے کے ذریعے برآمدات ممکن ہیں، مگر اس کے لیے وفاق اور صوبے کو ایک پیج پر آنا ہوگا،دوسرا اہم قدم کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن ہے۔ پنجاب میں آلو کی پیداوار لاکھوں ٹن ہے، مگر اسے سٹور کرنے کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، اگر حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر کولڈ اسٹوریج نیٹ ورک بنائے، آلو کے چپس، فلیکس اور اسٹارچ جیسی مصنوعات کو فروغ دے، تو نہ صرف کسان کو قیمت ملے گی بلکہ برآمدی آمدن بھی بڑھے گی۔تیسرا، کسان کے لیے کم از کم امدادی قیمت کا واضح اور قابل عمل نظام ضروری ہے، یہ مذاق نہیں کہ گندم پر سپورٹ پرائس نہ ہونے کے برابر ہو اور آلو جیسی بڑی فصل مکمل طور پر مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے، اگر حکومت چینی، آٹا اور پیٹرول کی قیمت کنٹرول کر سکتی ہے تو کسان کی پیداوار کی قیمت کیوں نہیں؟