کاش آج کوئی ” قاضی ” ہوتا۔۔۔

سنا تھا کہ کسی کے زخم تازہ نہیں کرنا چاہئیں، کیونکہ زخم بڑی مشکل سے بھرا کرتے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زخم کبھی بھرا نہیں کرتے، جس نے زخم دیا ہو (یا جو باعث زخم ہو) اس کے لئے دِل سے بدعا نکلتی ہے اور جو چلا گیا ہو اس کی یاد کبھی دل سے جدا نہیں ہوا کرتی، مگر نجانے کیوں وہ لوگ جو باعث زخم ہوتے ہیں۔اسلام آباد میں ایک ہیلتھ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 12-2011ء میں جب وہ وزیراعلی پنجاب تھے تو ایک واقع میں بہت سی قیمتی جانیں چلی گئیں یہ واقعہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہوا لہٰذا انہوں نے فوری طور پر ہسپتال میں مفت دی جا رہی ادویات کے نمونے فرانس اور برطانیہ بھجوائے اور وہاں سے رپورٹ آئی تو 60 فیصد جعلی نکلے تھے۔ پتہ چلا کہ یہ ادویات دِل کے امراض نہیں، بلکہ ملیریا کے مرض کی تھیں۔ جناب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ امیر ہو یا غریب سب کو سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات ملیں گی، مگر ان ادویات کے سیمپل جعلی نکلے۔ جناب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں رشوت کا بازار گرم تھا دِل کے مریضوں کی اموات بڑھنے پر تحقیقات کیں تو رپورٹ دی گئی کہ ”ادویات کی سٹوریج“ ٹھیک نہیں تھی۔ ”ڈریپ“ نے اسے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ”مجرمانہ غفلت“ قرار دیا، مگر لندن اور فرانس کی رپورٹوں سے پتہ چلا کہ مسئلہ مجرمانہ غفلت نہیں اس سے آگے کا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہاں صحت کے معاملے میں حالات ایسے ہیں کہ ہمارے ایک دوست ملک کا دیا ہوا ہسپتال اور برن یونٹ بند پڑا ہے اب وزیر صحت مصطفی کمال کو ان کو بحال کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس موقع پر مصطفی کمال کا کہنا تھا اصلی اور جعلی ادویات کی شناخت کا نظام تین ماہ میں لا رہے ہیں۔ ہم کیو آر کوڈ دیں گے تاکہ ہر شخص اپنے موبائل کے ذریعے ادویات کو چیک کر سکے کہ یہ اصلی ہے یا جعلی ہے۔یہ ہمارے ملک کے وزیراعظم اور وزیر صحت کا فرمایا ہوا ہے، لیکن وزیراعظم نے ان 100 سے 200 افراد کے والدین، یتیم ہونے والے بچوں، بیواؤں، بھائی، بہنوں، عزیز و اقارب کے زخم تازہ کر دیئے جو دسمبر 2011ء سے فروری 2012ء کے درمیان پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی مفت دوائیاں کھا کر ”خون اُگلتے ہوئے“ اِس دنیا سے چلے گئے۔ لیکن ظلم یہ ہے کہ بعد ازاں ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ سامنے آئی جس سے پتہ چلا کہ یہ 100 سے 200 اموات کا باعث بننے والی دوا کراچی کی ایک کمپنی “۔۔۔۔۔۔ ” نے بنائی تھی۔ اس دوائی کی تیاری کے دوران ”پیرا میتھامائن“ کا 25 کلو کا ایک ڈرم اس دوا کے محلول میں ”غلطی“ سے شامل ہو گیا۔ اس کے بعد اس دوا کی چار لاکھ گولیاں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو بھیجی گئیں،جو 40 ہزار مریضوں میں تقسیم کر دی گئیں اور پھر تیزی سے اموات سامنے آئیں۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق یہ ہے اصل کہانی۔

لیکن اس کے بعد کچھ اور بھی ہوا۔ فوری طور پر اس دوا ساز کمپنی اور فیکٹری کو بند کر دیا گیا۔اس کے مالک کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی گئی اور پھر جب معاملہ ٹھنڈا ہو گیا تو فیکٹری کھل گئی آج بھی وہ فیکٹری اپنا کام کر رہی ہے۔ آج بھی درجنوں ادویات اس کے نام سے بازار میں فروخت ہو رہی ہیں۔ آج بھی ان کے ”جرم یا گناہ“ کی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ یہ معاملہ انسانیت اور انسان کی جان کی قدر رکھنے والے کسی ملک میں ہوا ہوتا تو پھر وہ اس کمپنی کو اور اس کے مالکان کو ”دنیا کے لئے عبرت کی مثال“ بنا دیتے۔

امریکہ میں ایک دوا ساز کمپنی پارک ڈیوس کو ایک ”چھوٹی سی غلطی“ کی سزا 430 ملین ڈالر جرمانے کی صورت میں بھگتنا پڑی۔ پارک ڈیوس امریکہ کی سب سے قدیم اور بڑی میڈیسن کمپنی تھی،جو 1866ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کمپنی نے ادویات سازی میں بہت بڑا نام کمایا لیکن پھر ایک غلطی کی سزا انہیں بھگتنا پڑی۔ ایک دوائی جو کہ مرگی کے لئے امریکی نظام صحت سے منظور ہوئی تھی انہوں نے اس دوائی کو ڈاکٹروں کی ”ملی بھگت“ سے درد، آدھے سر کے درد، ڈپریشن کے مریضوں استعمال کروایا۔ یعنی ڈاکٹروں کو پیسے دے کر ان امراض کے مریضوں کو یہ دوا کھلائی گئی۔ اس جرم میں جس میں کسی کی جان نہیں گئی۔بے شک ہزاروں مریضوں کو دوا کھلائی گئی۔ اس کمپنی کو 430 ملین ڈالر کا جرمانہ کیا گیا۔ اس کے بعد یہ کمپنی اپنی شناخت کھو بیٹھی۔ اس کو دوسری کمپنیوں نے خرید لیا۔ اب پارک ڈیوس نام کی کمپنی آزادانہ کام نہیں کر سکتی۔ اب اسے دوسری کمپنیاں چلا رہی ہیں۔یہ سزا ہے ا دویات اس مرض کیلئے استعمال کروانے کی جس کیلئےوہ نہیں بنائی گئی تھی اور ہمارے ہاں تو ایک دوائی سے 100 سے 200 افراد جان سے چلے گئے، کمپنی آج بھی اپنی دوائیاں بیچ رہی ہے۔

برطانیہ میں کرونا کے دوران دو ڈاکٹروں نے اپنی ”تیار کردہ“ دوا کرونا سے بچاؤ کے نام پر بیچی۔ وہ دوا بیچ کر اس جوڑے نے صرف آٹھ ہزار پاؤنڈ کمائے۔ لیکن ”برطانوی نظام“ اس کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا نظام حرکت میں آیا اور ان دونوں ڈاکٹروں کا میڈیکل لائسنس چھین لیا گیا اب وہ دنیا میں کہیں بھی پریکٹس نہیں کر سکیں گے۔ جناب وزیراعظم کاش کہ اپ نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا ہوتا کہ جن لوگوں کی وجہ سے یہ 100 سے 200 افراد کی جانیں گئیں ہم نے انہیں کیا سزا دی؟ہم سب کو روزِ قیامت جواب دہی کا سامنا تو کرنا ہے لیکن مجھے تو افسوس یہ ہے کہ ہمارے نظام میں آج کوئی ”قاضی“ نہیں ہے، جو اِس ملک کے ”بے سہاروں“ کو انصاف دے سکتا کاش آج کوئی ”ایسا قاضی“ ہوتا تو یہ فیصلے بھی 13 سال پہلے ہی آ چکے ہوتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں