کبھی خوشی کبھی غم کے جذبات کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی پاکستان سے الوداع

مودی سرکار کی روایتی ہٹ دھرمی نے ایک
مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ کے رنگ میں بھنگ ڈالا

ایونٹ کے دوران بھارتی صحافی اور بی سی سی آئی کے
اعلی حکام لاہور آئے لیکن ٹیم نہ بھیجنے کے سوال پر خاموش رہے

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور ان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ
سکیورٹی اداروں نے ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا

لاہور(محمد بابرسے) آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی خوشی اور غم کے جذبات کے ساتھ پاکستان سے رخصت ہوگئی۔ ایونٹ کا فائنل اتوار کو نیوزی لینڈ اور بھارت کے مابین دبئی میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان میں 29 سال بعد آئی سی سی ایونٹ کا انعقاد شائقین کرکٹ کیلئے خوشی کا پیغام لایا لیکن قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی نے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے بڑے بڑے نام بشمول بابر اعظم، شاہین آفریدی اور محمد رضوان ہوم کراؤڈ کے سامنے عمدہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے شبانہ روز کی محنت سے 117 دن کی ریکارڈ مدت میں اربوں روپے کی لاگت سے لاہور،راولپنڈی اور کراچی کے سٹیذیمز کو اپ گریڈ کیا جہاں شائقین کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں تاہم ذرا سی لاپرواہی کے باعث قذافی سٹیڈیم میں ہونے والی بارش پوری دنیا میں پاکستان کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بن گئی۔ اتنے بڑے ایونٹ کیلئے پی سی بی کے متعلقہ حکام کی جانب سے بارش کا پانی سکھانے کیلئے دنیا کے بہترین سٹیڈیمز میں سے ایک اور پی سی بی کے ہیڈ کوارٹر قذافی سٹیڈی میں صرف ایک سپر ساپر کی موجودگی سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان کو نیچا دکھانے کے بہانے تلاش کرنے والے روایتی دشمن بھارت کے میڈیا نے اس چیز کو خوب اچھالا تاہم سیمی فائنل کے کامیاب انعقاد سے ان کا جھوٹا پراپیگنڈہ خاصی حد تک دم توڑ گیا، امید ہے چیئرمین پی سی بی مستقبل میں ایسی صورتحال کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ چیمپئنز ٹرافی کے کامیاب انعقاد میں آئی سی سی کے سٹاف پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اور ان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کے افسران اور اہلکاروں نے بھی ہمیشہ کی طرح نمایاں کردار ادا کیا جن کی انتھک محنت کے باعث اتنے بڑے ایونٹ کا خوش اسلوبی سے انعقاد ممکن ہوسکا۔

یہاں مودی سرکار کی روایتی ہٹ دھرمی کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جس نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کرکٹ کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی روایت برقرار رکھی، میزبان پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی کے ہائی برڈ ماڈل کے تحت ایونٹ کے سیمی فائنل اور فائنل سمیت پاک بھارٹ ٹاکرے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ایونٹ میں شرکت کیلئے پاکستان آنے والے تمام بورڈز کے سربراہان نے سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کو خوب سراہا جو سکیورٹی کا بہانہ بناکر پاکستان آنے سے انکار کرنے والے بھارت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے بھارتی انکار کے جواب میں پاکستانی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے فیصلہ سے مودی سرکار کو پہلی بار کرارا جواب ملا اور اب اگلے آئی سی سی ایونٹ سے پاکستانی ٹیم کی غیر حاضری مغرور مودی سرکار کیلئے حزیمت کا باعث بنے گی۔ ایونٹ کے دوران بھارتی صحافی پاکستان میں دندناتے رہے جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا بھی پاکستان کے زخموں پر نمک پاشی کیلئے لاہور میں موجود تھے۔

پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کا مزہ لینے کیلئے بی سی سی آئی کا نمائندہ تولاہور میں موجود تھا لیکن بھارتی ٹیم کو یہاں آتے نجانے کیوں موت پڑجاتی ہے۔ دوسرے سیمی فائنل کی اننگز کے وقفے کے دوران راجیو شکلا کو میڈیا سے ملوانے کے لئے کیفے ٹیریا لایا گیا جہاں شکلا جی کے چہرے پر مودی سرکار کے غنڈوں کا خوف صاف دکھائی دے رہا تھا جس کے باعث انہو ں نے نہایت محتاط انداز سے گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالات کے غیر تسلی بخش جوابات دئیے۔ گفتگو کے دوران راجیو شکلا نے ایک بار پھر راگ الاپا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر پاک بھارت سیریز کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں