کتے مہنگے۔۔۔۔۔ انسان سستے

پاکستان میں 27 ویں ترمیم کے بعد اب ایک نئی عدلیہ نئی عدالتوں نے جنم لیا ہے۔ پرانی عدالتوں اور ان کے ججوں کے بارے میں رانا ثناء اللہ نے جو فرمایا اور جو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کے لیڈران کا موقف ہے،اس کے مطابق تو پرانے تمام جج جمہوریت دشمن تھے۔ جمہوریت سے مراد ایسا نظام ہے، جس میں عوام با اختیار ہوتے ہیں۔ وہ جن لوگوں کو چنتے ہیں ان پر مشتمل پارلیمنٹ بنائی جاتی ہے،جو عوام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ اور اس کے ممبر ”عوام کے لئے“ کام کرتے ہیں۔ ”موجودہ حکمرانوں“ کے مطابق سابق عدلیہ نے انہیں کام ہی نہیں کرنے دیا۔ بہرحال اب اس عدلیہ، ان ججوں سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے مقتدرہ کی مدد سے 27 ویں ترمیم کے ذریعے ”نئی عدالتیں“ بنا لی ہیں۔ آئینی عدالت بھی آچکی ہے لہٰذا اب یقینی طور پر فیصلے عوام کے لئے اور عوام کے مفاد میں ہوں گے۔پاکستان کے خزانے کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ سب لکھنے کا خیال جسٹس خادم حسین سومرو کے اس بیان سے ذہن میں آیا جو انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف این جی اوز کی طرف سے دائر ایک کیس کو سنتے ہوئے فرمایا کہ ”جب ہم ہر کتے پر 19 ہزار روپے خرچ کر رہے ہیں (کتے کی نس بندی اور ویکسی نیشن کیلئے) تو پھر انہیں مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ پاکستان میں کتوں کو مارنا جرم ہے اور جو کتا مارے گا اس کیخلاف مقدمہ ہو گا“۔ یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ ایک کتے کو پکڑا جائیگا، اس کیلئےسینٹر بنا کر رکھا جائیگا۔ جہاں کتوں کی نس بندی کی جائیگی تاکہ آئندہ وہ ”اولاد نہ پیدا“ کر سکیں۔

انہیں ویکسین لگائی جائے گی تاکہ ان کے کاٹنے سے ”ریبیز نہ ہو“۔ کیونکہ ریبیز تو لاعلاج مرض ہے۔ بروقت علاج نہ ہو تو انسان تڑپ تڑپ کر مرتا ہے۔ (وہ منظر دیکھ چکا ہوں اور اس ماں کو بھی روتے دیکھ چکا ہوں جو بچے کے مرنے کے ساتھ پل پل مر رہی تھی)۔ جن مہذب قوموں کی ہماری ”این جی او اشرافیہ“ بات کرتی ہے انہوں نے بھی پہلے آوارہ کتوں کو ختم کیا تھا۔ اب وہاں گھروں میں پالتو کتے ضرور ہیں۔ آوارہ کتا نظر نہیں آتا۔ شہر میں آوارہ کتے نہیں پھرتے۔ ہمارے ہاں تو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے آس پاس آوارہ کتے نظر آتے ہیں۔اسلام آباد میں ایک اندازے کے مطابق آوارہ کتوں کی تعداد 50 ہزار ہے۔ اگر 19 ہزار روپے فی کتا کے حساب سے تخمینہ لگائیں تو 95کروڑ روپیہ ”نس بندی اور ویکسین“ پر خرچ ہو گا جس کے بعد ان کی مزید اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی اور ان کے کاٹے سے ریبیز نہیں پھیلے گی۔

سندھ میں کتوں کی تعداد 30 لاکھ بتائی جاتی ہے یعنی ان کتوں کو قابو کر کے ویکسین لگانے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے میں 57 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ وہ پیسہ ہے،جو انسانوں پہ خرچ کیا جائے تو لاکھوں لوگوں کا علاج ہو جائے، درجنوں جدید ہسپتال بن جائیں۔ جن کو روٹی نہیں ملتی ان کو بھی دوائیاں مل جائیں۔ وہ تڑپ تڑپ کر نہیں مریں گے، مگر ہماری این جی اوز کو تو ”کتے عزیز“ ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خود بڑی بڑی مہنگی گاڑیوں میں سفر کرتے اور اونچی دیواروں والے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کو کتوں سے کیا خوف۔ کتوں سے خوف تو ان 20 – 22 کروڑ عوام کو ہے جن کی گلیوں میں کتے دندناتے پھرتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی انہیں گلیوں میں کھیلنا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے 1997ء میں باغ جناح لاہور میں ایک بچی کو کتوں نے ”پھاڑ کھایا“ اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ”عوام کو حکم“ دیا کہ کتے مارو۔ کتا مار کے اس کی دُم لانے والے کو 50 روپے ملیں گے۔ 50 روپے بلدیہ ادا کرتی تھی جبکہ بلدیہ کا اپنا عملہ اپنی کتا مار مہم چلاتا تھا۔ انہیں نئی بندوقیں اور کارتوس خرید کر دیئے گئے تھے۔ بلدیہ کے لوگ ساری رات شہر میں ”کتا ماری“ کیا کرتے تھے۔ لیکن شاید اب ہم نے اپنے آپ کو امریکہ، برطانیہ، جاپان، کینیڈا، سوئزرلینڈ، فرانس، اٹلی اور دوسرے مہذب ملکوں سے بھی زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب سمجھ لیا ہے۔ کہ ہم اپنے ملک میں پھیلے کروڑ سے زائد کتوں کو ختم کرنے کی بجائے ان پہ اتنا پیسہ خرچ رہے ہیں جتنا ہم لاہور یا کراچی کی ترقی پر بھی نہیں خرچ رہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ اسلام آباد لاہور موٹر وے کی تعمیر کرنے والی جنوبی کوریائی فرم کے لوگوں نے ”آوارہ کتوں“ کو کھا کر ان کا صفایا کر ڈالا تھا۔ فلپائن، جنوبی کوریا اور مشرق بعید کے دیگر ممالک میں ”کتا بطور خوراک“ استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بڑے شوق سے اسے کھاتے ہیں۔اربوں اور کھربوں روپے کتوں پر خرچ کرنے کی بجائے انہیں پکڑ کر بحری جہازوں میں بھر کر مشرق بعید بھیجو اور اربوں روپے کماؤ۔ پیسہ ہمارے کام آئے گا اور کتوں سے نجات بھی مل جائے گی۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر وہی ہو گا جو آج ہو رہا ہے۔

پاکپتن کے پارک میں سیر کرنے والے سات افراد کو کتے نے کاٹ کر زخمی کیا۔ جامعہ کراچی میں آوارہ کتوں نے ایک پانچ سالہ بچے اور ایک معصوم بچی کو کاٹ کر زخمی کیا۔ مناواں لاہور میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کتے نے بچی کو کاٹا تو کتے کو پکڑ کر این جی او کے حوالے کر دیا گیا۔ الکرم سکوائر کے فلیٹوں میں کتے راہداریوں،بالکونیوں میں بچوں کو کاٹنے کے لئے دوڑنے لگے تو مکینوں نے بچے گھروں میں بند کرلئے۔ ایک کتے نے تین چار بچوں کو کاٹا،پرندوں کے پنجرے سے پرندے نکال کر مار ڈالے تو مکینوں نے خاکروب کو بلوا کر کتے کو پکڑ کر بالکونی سے نیچے پھینکوا دیا۔اس جرم میں خاکروب کو پولیس نے پکڑ لیا اور دو مکینوں کی تلاش کے لئے پولیس چھاپے مار رہی تھی۔ این جی اوز کے لئے پاکستانی بچوں کی کوئی قیمت نہیں البتہ کتا بڑا قیمتی ہے۔ پاکستان میں کتے کے کاٹے سے ہر سال کم از کم ایک ہزار افراد اور دنیا میں کتوں کے کاٹنے سے ہر سال 60 ہزار کے لگ بھگ لوگ مر جاتے ہیں۔زیادہ تر ہلاکتیں ایشیا اور افریقہ میں ہوتی ہیں۔ کراچی میں ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 50 سے 60 ہزار کتے کے کاٹے کے کیس ہسپتالوں میں ریکارڈ ہوتے ہیں۔ کراچی میں سال 2023ء میں کتے کے کاٹے کے 42ہزار واقعات ریکارڈ ہوئے تھے۔

کتے کو مارنا اگر جرم ہے تو اسے نہیں مارتے اس کو برآمد کر دیتے ہیں۔ کتے کو مارنا جرم ہے برآمد کرنا تو جرم نہیں۔ برآمد کرکے پیسہ کما لو۔