کراچی:ایف آئی اے امیگریشن افسران اور آف لوڈنگ کا دھندہ

کراچی (بیورورپورٹ) ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے مسافروں کو بڑی تعداد میں آف لوڈ کیے جانے کے معاملے پر ایف آئی اے افسران اعلیٰ عدالت میں آف لوڈنگ سے متعلق قوانین اور دیگر دستاویزات فراہم کرنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں ایک پٹیشن کی سماعت ہوئی جس میں ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وہ کون سے تحریری قوانین ہیں جن کے تحت مکمل سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو آخری لمحات میں آف لوڈ کیا جاتا ہے، تاہم ایف آئی اے افسران قوانین پیش نہ کر سکے اور مزید وقت مانگ لیا۔

ادھر کراچی میں ہفتہ اور اتوار کی شب دو شہری عنایت اللہ اور ارشد، جو کوریا جا رہے تھے، کو آف لوڈ کر دیا گیا۔ متاثرہ مسافروں کے پاس کوریا کا ویزہ، انویٹیشن لیٹر، ہوٹل بکنگ، کاروباری دستاویزات اور کمپنی کی ملکیت کے ثبوت موجود تھے، اس کے باوجود آف لوڈنگ کی مہر لگا کر انہیں سفر سے روک دیا گیا، جس کے باعث ان کے تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے ٹکٹ ضائع ہو گئے اور انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے امیگریشن حکام پر ایجنٹوں کے ساتھ ریٹس طے کرنے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن کے تحت ادائیگی کے بغیر بیرون ملک جانے والے مسافروں کو آف لوڈ کر دیا جاتا ہے، جبکہ پہلی بار سفر کرنے والوں کو معمولی بہانوں پر روک لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے کاغذات مکمل ہوتے ہیں۔