گزشتہ ہفتے کراچی میں ہونے والی بارشوں کے بعد سوشل میڈیا، ٹی وی میڈیا اور اخبارات میں کراچی کے بارے میں جو خبریں دیکھیں اور پڑھیں اِس سے ایسا لگا جیسے یہ کسی میٹروپولیٹن سٹی کا نہیں بلکہ کسی برباد ملک کے برباد شہر کا حال ہے۔ یہ وہ شہر لگا ہی نہیں جو پاکستان کے قیام کے بعد ملک کا پہلا دارالحکومت قرار پایا تھا۔ ملک کی واحد بندرگاہ،پاکستان کا سب سے بڑا اور بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی کراچی میں تھا۔ دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے کے باوجود سٹیٹ بینک سمیت اہم دفاتر برس ہا برس تک کراچی میں ہی رہے۔آج بھی پاکستان سے برآمد اور درآمد ہونے والی اشیاء کا تمام تر ٹیکس کراچی میں ہی وصول کیا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے ”کراچی کی آمدنی“پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ وہ شہر جن کی آمدنی زیادہ ہو ان پر”قبضے کے دعویدار“ بھی بہت ہوا کرتے ہیں۔ کراچی میں اردو بولنے والوں کی اکثریت تھی شاید ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی ”مارشل لا کی برکت“سے جماعت اسلامی کو کراچی کا انتظام بذریعہ بلدیاتی نظام سونپا گیا، لیکن اس تجربے کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو کراچی میں ”ایک اور گروپ“ کی ضرورت محسوس ہوئی، اور پھر ایم کیو ایم وجود میں آئی۔ جسے کراچی ”سونپ“ دیا گیا۔ کراچی طویل عرصہ سے ایم کیو ایم کی ”گرفت“ میں ہے۔ البتہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے کچھ مقاصد کے حصول کے لئے کراچی کو ایک بار پھر بذریعہ بلدیاتی حکومت جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا تھا۔ بعدازاں ایم کیو ایم کو ”معافی مل گئی“ اور کراچی پھر ان کو ”سونپ دیا گیا“۔ البتہ موجودہ ”ہائبرڈ سیٹ اپ“ کے تحت سندھ کے بعد کراچی بھی پیپلز پارٹی کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ سندھ گزشتہ 18 برسوں سے پیپلز پارٹی کے”حوالے“ چلا آرہا ہے۔ سید قائم علی شاہ کے بعد سید مراد علی شاہ یہاں ”تخت نشین“ ہیں۔ کوئی ایک پارٹی اگر کسی ملک صوبے یا شہر پر 18 سال لگاتار حکومت کرے تو وہاں تو دودھ اور شہد کی نہریں بہنا چاہئیں، لیکن کراچی والوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں برسنے والی صرف 144 ملی میٹر بارش نے شہر میں پانی کے دریا،بلکہ سمندر بہا دیے۔ ایسا لگتا تھا سمندر کراچی میں داخل ہو گیا ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیاں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ یہ انتہائی ناپسندیدہ منظر تھا۔ لیکن نجانے کراچی والے کیوں اپنا حق احتجاج بھول گئے ہیں۔ لاہور میں 144 ملی میٹر بارش معمول ہے۔ اتنی بارش تو یہاں ہوتی ہی رہتی ہے۔ رواں سال 10 جولائی کو 182 ملی میٹر اور 15 جولائی کو 171 ملی میٹر بارش ہوئی۔ لاہور میں بھی پانی کھڑا ہوتا ہے لاہور میں بھی سڑکوں پہ ٹریفک کچھ دیر کے لئے ”سلو یعنی سست“ ہو جاتی ہے مگر چلتی رہتی ہے۔ کیا لاہور کے وسائل کراچی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یقینا نہیں۔ کراچی ٹیکس اکٹھا کرنے کے علاؤہ جو اربوں روپے وفاقی حکومت سے حاصل کرتا ہے آخر وہ پیسہ کہاں جاتا ہے۔
کراچی میں 8 اور 10 ستمبر کے درمیان 24 سے 36 گھنٹے میں 144 ملی میٹر بارش ہوئی اس بارش نے کراچی کو ”پانی پانی“ کر دیا۔ فوج طلب کرنا پڑ گئی رینجرز فوج اور ریسکیو 1122 لوگوں کو پانی سے نکالتے رہے۔ کراچی میں بنائے گئے ڈیم اوور فلو ہو گئے۔ کورنگی کازوے، ڈیفنس کراسنگ کے راستے بند ہو گئے۔ تھڈو ڈیم کا پانی ایم نائن موٹروے پر آنے سے کراچی حیدرآباد کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ مول ڈیم، تھڈو ڈیم، لٹھ ڈیم اور دوسرے ڈیم جن کا سندھ حکومت بہت فخر سے ذکر کرتی ہے۔ 144 ملی میٹر کی معمولی بارش کے پانی کے لئے بھی ناکافی ثابت ہوئے۔ ڈیم اوور فلو ہونے سے آبادیاں ڈوب گئیں۔ ایم نائن موٹروے پر سڑک کے درمیان بنے ڈیوائڈرز کو توڑ کر پانی نکالنے کا راستہ بنانا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 13 اگست کو 12 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی ”پختہ حب کنال“ کا افتتاح کیا تھا۔ تاکہ کراچی کے شہریوں کو پینے کے لئے پانی مہیا کیا جا سکے، لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ 144 ملی میٹر بارش نے وہ حب کینال بھی توڑ ڈالی۔حب کینال کا جو سٹرکچر ٹی وی پر دیکھا اور ”ناکافی سرئیے“ کا جو استعمال دیکھا اسے دیکھ کر سمجھ آ گئی کہ یہ کینال کیوں ٹوٹی۔ نجانے یہ ”کس کی نگرانی“میں بنائی گئی اور اب کس سے بلاول بھٹو جواب طلب کریں گے کہ آخر کس نے اس کا ”کمپلیشن لیٹر“ جاری کیا۔ ملیر ندی کے ساتھ بنائی گئی ”شاہراہِ بھٹو یا ملیر ایکسپریس وے“کی ناقص تعمیر بھی کھل کر سامنے آگئی۔ ملیر ندی کا پانی اس سڑک کے بلند پشتے میں ایک بڑا شگاف ڈال کر پار نکل گیا۔ سڑک کا ایک خاصا بڑا حصہ ملیر ندی کے پانی میں بہہ گیا۔ یہ سڑک کس نے بنائی اور کس کی نگرانی میں بنی، وہ کون تھے؟ اتنا کمزور ڈھانچہ کیسے بنا؟ کراچی کی سڑکوں پر چار سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا تھا۔ ایسا دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن وہاں پانی کھڑے ہونے کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ جیسے لاہور میں دو سے چار گھنٹے میں واسا لاہور سڑکوں سے بارشی پانی نکال دیتا ہے۔ آخر کراچی میں ایسا کیوں نہیں ہو پاتا؟ کراچی کی وہ وسیع ندیاں اور نالے جو کراچی سے بارشی پانی لے جا کر سمندر میں پھینکتے تھے کہاں چلے گئے؟ خواجہ آصف کی بات صحیح لگتی ہے کہ جب آپ دریا اور ندی نالوں میں تجاوزات کر لیں گے تو پھر گھر ڈوبا ہی کرتے ہیں۔ وزیر دفاع ملکی دفاع یعنی ملک کی سرحدوں کے ساتھ شہریوں کے دفاع کے بھی ذمہ دار ہیں۔ تو یہ لوگ جنہیں ڈبویا جا رہا ہے وزیر دفاع کو ان کے لیے بھی کچھ کرنا ہوگا۔ ان کی ماتحت فوج تو کراچی میں کام کرتی نظر بھی آئی۔ لیکن یہ نالے یہ ندیاں قبضہ گروپوں سے کون بحال کرائے گا؟ قبضہ گروپ چاہے پیپلز پارٹی ہے،ایم کیو ایم ہے، پی ٹی آئی ہے یا جماعت اسلامی سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ یعنی سخت ترین سزائیں۔ سپریم کورٹ نے ایک قانون بنایا ہوا ہے کہ ملک میں کہیں بھی اگر کوئی جگہ پارک کے لئے مختص ہے تو وہاں کوئی اور کام نہیں ہو سکتا وہ پارک ہی رہے گا۔ کیا ہمارے موجودہ قاضی یعنی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس بات کا ازخود نوٹس لیں گے کہ یہ راستے جو ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور قبضہ گروپ کھا گئے بحال ہو سکیں۔ایک عرصہ ہو گیا کوئی اچھا سوموٹو نہیں دیکھا۔ موجودہ چیف جسٹس سوموٹو کے خلاف سہی، مگر ان کو ایک سوموٹو اس ملک کے ندی نالوں دریاؤں پر کیے گئے قبضوں کے خاتمے کے لئے تو لینا ہوگا آخر یہ شہری حقوق کا معاملہ ہے۔

