کراچی(نمائندگان)کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق متاثرہ دکانداروں نے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ گل پلازا کی چار دکانوں کے مالک سلیمان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت عمارت کے 26 میں سے 24 دروازے بند تھے اور عمارت میں کسی قسم کا ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیمان نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت وہ پلازا میں موجود نہیں تھے، بعد میں اندر داخل ہوئے تو اپنے کزن کو باہر نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی دکان میں خواتین سمیت 12 سے 15 افراد موجود تھے اور دھوئیں کی شدت کے باعث سانس لینا مشکل ہوچکا تھا۔ سلیمان کے مطابق جب دوسرے کزن کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ زندہ بچنا مشکل ہے، کئی افراد کو انہوں نے خود عمارت سے باہر نکالا جبکہ کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گرے ہوئے تھے۔
متاثرہ دکاندار نے بتایا کہ ان کے لاپتا ورکرز میں یاسین، عارف اور صداقت شامل ہیں جبکہ ان کے کزن عبداللّٰہ، نعمت اللّٰہ، عثمان اور بھانجا یوسف بھی تاحال لاپتا ہیں۔
ایک اور متاثرہ دکاندار شاہد زبیر نے بتایا کہ پلازا میں مجموعی طور پر 26 گیٹ ہیں، رات دس بجے تمام گیٹ بند کر دیے جاتے ہیں اور صرف دو راستے کھلے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جبکہ وہ میز نائن پر موجود تھے، آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور چند لمحوں میں پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی۔شاہد زبیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے ورکرز، دیگر دکاندار اور خریدار موجود تھے، وہ دکان سے باہر نکلے تو بے ہوش ہوگئے۔

