کراچی: ڈیفنس فیز 6 میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام قتل

کراچی(بیورورپورٹ)کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں نماز جمعہ کے بعد مسجد کے باہر فائرنگ سے معروف و سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق ہو گئے، جب کہ ان کے بیٹے سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد وکلا برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق، خواجہ شمس الاسلام خیابان راحت میں نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے، جب گھات لگائے ایک شخص نے ان پر گولیاں برسا دیں۔ انہیں تین گولیاں لگیں اور انہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

زخمیوں میں ان کے بیٹے سمیت ایک اور شخص شامل ہے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت عمران آفریدی کے نام سے ہوئی ہےجو مقتول کے سابق سیکیورٹی گارڈ کا بیٹا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمران آفریدی نے ماضی میں بھی خواجہ شمس الاسلام پر حملہ کیا تھا اور اس کا الزام تھا کہ خواجہ شمس الاسلام نے اس کے والد کو قتل کرایا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج واقعے کے بعد حاصل کر لی گئی ہے، جس میں ملزم مسجد کے احاطے میں فائرنگ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ملزم ماسک پہنے ہوئے تھا، لیکن چہرے کی شناخت ممکن ہو گئی ہے۔ایک دوسرا شخص بھی موجود تھا جو فائرنگ کرنے والے کا “بیک اپ” دے رہا تھا۔

گرفتاری کیلئےحکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ملزم کی تصاویر تمام ناکوں پر بھیج دی گئی ہیں۔

خواجہ شمس الاسلام ایک معروف وکیل جو سول کرمنل اور زمینوں سے متعلق تنازعات میں مہارت رکھتے تھے۔کئی ہائی پروفائل کیسز کی پیروی کر چکے تھے۔ماضی میں ان پر ایک اور قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس افسوسناک واقعے پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر وڑائچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کا قتل پولیس کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ماضی میں بھی معروف وکلا پر حملے ہوتے رہے ہیں، لیکن مناسب اقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ تسلسل جاری ہے۔”

انہوں نے کہا کہ خواجہ شمس الاسلام کے قتل پر وکلا برادری سخت غم و غصے میں ہے، اور شہر بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کی جائے گی جبکہ آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کیا جائے گا۔ کراچی بار نے مقتول وکیل کے قتل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں