کرکٹ، عزت بچ ہی گئی!

پاکستان کرکٹ ٹیم کی گروپ میچ میں بھارتی ٹیم سے شکست کے بعد ہی ایشیا کپ اور ملکی کرکٹ کے حوالے سے لکھنا چاہتا تھا لیکن میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی غیر معقول حرکت اور بھارتی ٹیم کے نامناسب رویے پر جو احتجاج ہوا، اس کا انتظار کرنا لازم ہوگیا کہ ہماری طرف سے ردعمل جائز اور سخت تھا، بتایا جا رہا تھا کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ میچ ریفری کو ہٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی خبر یہ بھی تھی کہ اگر یہ مطالبہ نہ مانا گیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ ایشیاء کپ کے باقی حصے سے باہر آ جائے گا جسے بائیکاٹ کا نام دیا گیا، بہرحال محسن نقوی کا بیان درست اور پر احتجاج تھا کہ ملک کے آگے کوئی شے نہیں اور ہمیں ملک کا وقار عزیز ہے۔

قارئین! سب جانتے ہیں کہ پاک، بھارت میچ کے دوران افسوسناک واقعات ہوئے اول تو ٹاس کے بعد دونوں کپتانوں کے درمیان روائتی طور پر ہاتھ نہ ملائے گئے اور اس کے بعد جب میچ کا فیصلہ ہوا جو بھارت کے حق میں تھا تو بھی بھارتی کھلاڑیوں نے گریز کیا، یوں کھیل کی روح کو مسخ کیا گیا۔ کھیلوں کے حوالے سے تو روائت ہے کہ یہ دلوں کو جوڑتے ہیں چہ جائیکہ ایسی حرکت کا مظاہرہ کیا جائے۔ بھارتی ٹیم کے اس رویے پر پوری دنیائے کرکٹ نے تھوتھو کیا کہ دوسرے کھیل اپنی جگہ لیکن کرکٹ کو جنٹلمین سپورٹ کہا جاتا ہے اور اس کے روائتی آداب ہیں جبکہ قواعد و ضوابط اپنی جگہ ہیں، سخت تر حریف ٹیموں کے کھلاڑی بھی ایک دوسرے سے بات چیت کرتے بلکہ گپ شپ کرتے ہیں، ماضی میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے تعلقات بھی اچھے رہے نہ صرف گراؤنڈ بلکہ گراؤنڈ سے باہر بھی ملاقات ہوتی تو خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوتا تھا، تاہم مودی کا ہندوتوا رویہ اور گودی میڈیا کی لن ترانیوں سے حالات خراب ہوئے، ابتداء کھیلنے سے انکار پر ہوئی۔ بھارتی ٹیم کو اجازت نہ دی گئی جس پر پاکستان نے بھی سخت موقف اختیار کیا اور چیمپئن ٹرافی کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا تھا، پھر جوش پر قدرے ہوش غالب آیا اور ہائبرڈ نظام وضع کیا گیا جس کے مطابق پاک بھارت میچز غیر جانبدار وینو پر ہوئے اور اب جب ایشیاء کپ کی باری آئی تو پھر وہی تنازعہ پیدا ہو گیا اور بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے ہی سے انکار کر دیا جس پر ایشیا کپ کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ گیا۔ تاہم بعدازاں یہ طے پایا کہ مقابلے غیر جانبدار مقام پر کرا لئے جائیں، چنانچہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے حق میں ہوا، جہاں ابوظہبی، شارجہ اور دوبئی میں میچ ہوئے اور ہو رہے ہیں۔

اس سلسلے میں باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھارتی متشدد حکمرانوں کو ماہرین نے سمجھایا کہ اگر اس ایونٹ میں ٹیم نہ بھیجی گئی تو مستقبل میں اس کے لئے کئی پریشانیاں کھڑی ہو سکتی ہیں چنانچہ ٹیم تو آ گئی لیکن رویہ تلخ اور دشمنانہ ہی تھا، چنانچہ پہلا ہی میچ ہنگامے کا باعث بن گیا۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی ٹیم اور میچ ریفری کے رویے کی بناء پر سخت موقف اختیار کر لیا گیا، دوسری طرف پوری دنیا میں بھارتی رویے کی مذمت کی گئی کہ کھیل کی روح مجروح کی گئی حالانکہ پاکستانی کھلاڑی شکست کے باوجود میدان میں تھے لیکن نہ تو میدان والے بھارتی کھلاڑیوں نے اصول کی پابندی کی اور نہ ہی ڈریسنگ روم سے ایسا تاثر دیا گیا چنانچہ بات بگڑ گئی۔

بدھ کی شام پروگرام کے مطابق دوبئی میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان میچ تھا جو پاکستان کے لئے زیادہ اہم تھا کہ سپرفور میں پہنچنے کا دار و مدار بھی اسی پر تھا۔ دوبئی سے آنے والی خبریں اچھی نہ تھیں کہ آئی سی سی کی سربراہی بھی بھارت کے پاس ہے، اس کے اجلاس میں بحث نے دیر کر دی، بہرحال درمیانی راہ یہ نکالی گئی کہ ریفری نے اپنے رویے پر معذرت کرلی۔ ادھر لاہور میں دو سابق چیئرمینوں نجم سیٹھی اور رمیض راجہ کی محسن نقوی کے ساتھ طویل میٹنگ ہوئی اور اس میں بالآخر یہ فیصلہ ہو گیا کہ میچ ریفری کی معذرت قبول کرلی جائے کہ کھیل میں ڈیڈ لاک بہتر نہیں ہوگا، چنانچہ دوبئی اطلاع دے دی گئی اور منتظر آئی سی سی والوں نے بھی سکھ کا سانس لیا اور یقین دلایا کہ تمام معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائے گی۔ چنانچہ میچ ایک گھنٹہ کی تاخیر سے ہوا جو ہماری کرکٹ ٹیم نے جیت لیا، یہ میچ سپرفوروالے مرحلے تک لے گیا۔ اپنے گروپ میں پاکسان دوسرے نمبر پر ہے اور اسے سیمی فائنل کھیلنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ امکان یہی ہے کہ فائنل مقابلہ پھر بھارت اور پاکستان ہی کے درمیان ہوگا۔

میں نے بات کرنا تھی، کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر کہ عاقب جاوید کہتے ہیں۔ میرٹ معیار ہوگا اور جو پرفارم کرے گاوہ کھیلے گا۔ عاقب جاوید نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ بہت اہلیت کی حامل ٹیم ہے جو ورلڈکپ بھی جیت کر لائے گی۔ عاقب جاوید نے میرٹ کی بات کی تو محمد حارث، صائم ایوب اور خود سلمان اکبر نے بھی تیکھی باتیں کیں اور اس تصو رکو بھی رد کر دیا کہ سینئر جونیئر کا کمبی نیشن ہوتا ہے۔ دنیا کرکٹ کا یہ اصول ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کے متبادل تیار کئے جاتے اور ان کو بھی تجربے کی کھٹالی سے گذارا جاتا ہے۔ مجھے کسی بابراعظم یا رضوان سے غرض نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان کی کارکردگی بعض وجوہ کے باوجود بہت بہتر تھی۔ بابراعظم تو ریکارڈ ہولڈر ہے اور ابھی اس کے سامنے کئی ریکارڈ پڑے ہوئے ہیں، اگر اس پر برا وقت آیا تو اسے موقع دے کر سنبھالنا چاہیے نہ کہ اسے رد اور بدنام بھی کیا جائے، میں کئی بار سازش کا ذکر کر چکا ہوں تو اس کے تحت بابر اعظم اور رضوان کے بعد فخر زمان اور حارث (باؤلر) بھی ہیں اور پھر راوی چین لکھے گا۔ لیکن مہربانوں! بہتر ہے کہ بڑے بول بولنے والے سلمان اکبر، محمد حارث، صائم ایوب سمیت ان کے ساتھیوں کی کارکردگی دیکھ لیں اورفیصلہ میرٹ پر کرلیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں