کرکٹ۔۔۔سازشوں اور نئے بحران کی منتظر؟

کرکٹ کے حوالے سے دو دِنوں میں دو خبریں نظر سے گذریں تو خیال آیا کہ عیدالاضحی اور وفاقی بجٹ کی ہما ہمی میں یہ شعبہ تو نظر انداز ہی ہو گیا۔کرکٹ میرا شوق ہے اور ایک حد تک اسے جنون بھی کہہ سکتے ہیں کہ1948ء سے اب تک اس میں مبتلا ہوں، ایک دور اپنے کھیلنے کا تھا،جو سکول،محلے اور کلب تک محدود رہا۔تاہم باغ جناح سے قذافی سٹیڈیم تک ہونے والے میچ دیکھے اور پھر وہ دور آیا کہ رپورٹر کی حیثیت سے کوریج بھی کی،اِس لئے اتار چڑھاؤ کا عینی شاہد بھی رہا۔ عبدالحفیظ کار دار سے دوستی رہی، ان کے کریسنٹ کلب میں نیٹ پریکٹس کے دوران بال کے پیچھے بھی بھاگتا رہا۔پریس گیلری میں کوریج بھی کی، اعجاز بٹ کو ویسٹ انڈیز کے باؤلر کی تیز گیند سے زخمی ہو کر کرکٹ سے باہر ہوتے بھی دیکھا۔ حنیف محمد، امتیاز احمد، فضل محمود، محمود حسن، شجاع الدین(کرنل)، سرفراز نواز اور عمران خان کو بھی میدان میں دیکھا، پرانے دور میں برطانیہ، آسٹریلیا وغیرہ میں ہونے والے میچوں کی کمنٹری بھی شوق سے سنی، جمشید مارکر اور عمر قریشی سے چشتی مجاہد تک کو پسند کیا۔پھر جب ٹیلیویژن کا دور آیا تو لائیو کھیل دیکھ کر شوق پورا کیا،اِس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اور کسی کھیل کی باریکیوں اور حالات سے واقفیت ہو یا نہ ہو، کرکٹ کے اتار چڑھاؤ، جوڑ توڑ اور سازشوں سے باخبر ہوں۔یہ بھی جانتا ہوں کہ یہاں بڑے بڑے اعلیٰ کھلاڑی قسمت کے ہاتھوں جگہ نہ پا سکے تو کئی بہترین صلاحیت کے مالک کھلاڑی سازش کے ذریعے گھر بٹھا دیئے گئے۔مجھے یاد ہے کہ اسلامیہ کالج کے اوپنر اور کپتان سلطان بہترین سٹروک پلیئر تھے اُن کی صلاحیت کی بناء پر ان کو گورنمنٹ کالج نے اُچک لیا تھا، سکپر کاردار کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔اس دور میں ہم لوگ ان کی سنچری کا وقت اور باؤنڈریاں گھڑیوں اور سکور بُک سے گِنا اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ عبدالحفیظ کاردار نے سلطان کو ٹیم میں موقع ایک سے زیادہ بار دیا لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا وہ سکور نہ کر پائے،پھر عمران خان کے دورِ کپتانی میں منصور احمد کے حالات بھی یہی ہوئے،وہ بھی غیر ملکی ٹیم کے خلاف نہ چل پائے۔ ڈومیسٹک میں بہترین ریکارڈ ہولڈر تھے۔ عمران خان کی بہترین کوشش اور خواہش کام نہ آئی اور ان کی جگہ نہ بن سکی،ہمارے ون ڈاؤن سعید احمد دنیا میں ریکارڈ ہولڈر ہیں۔ان کے پاؤں میں ہلکا سکا نقص بھی کامیابی نہ روک سکا،ان کی کور ڈرائیور آج بھی یاد آتی ہے۔کہا جاتا تھا کہ ان کا متبادل شاید ہی مل سکے،پھر خدا کا کرنا کیا ہوا کہ ہمارے محلے کا نوجوان پرویز بٹ موقع ملنے پر ریلوے کرکٹ ٹیم کا رکن بنا،اور جلد ہی دھوم مچ گئی کہ سعید احمد کا متبادل مل گیا۔ پرویز بٹ کو نہ صرف آؤٹ کرنا مشکل ہوتا، بلکہ اس کی کور ڈرائیور بھی غضب کی تھی۔ چشم زدن میں بال باؤنڈری سے باہر ہوتی،اس کی قسمت نے اس کا ساتھ نہ دیا اور گھڑسواری کے باعث اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا اور کرکٹ سے باہر ہو گیا۔

عبدالحفیظ کاردار آکسفورڈ کے بعد برصغیر کی ٹیم کے بھی رکن تھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی اور پھر بورڈ کی سربراہی کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔فضل محمود، محمود حسن، سرفراز احمد، عمران خان، ماجد خان، حنیف محمد، امتیاز احمد، مقصود احمد، سلیم اقبال اور متعدد عالمی کھلاڑیوں کو ان کی ماتحتی میں کھیلنے کاموقع ملا اور ان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو کرکٹ بورڈ کی صدارت بھی ملی۔1970ء والے عام انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور صوبائی وزیر خوراک بنے۔ وہ خود ایک بیورو کریٹ اور ان کا شعبہ تعلیم تھا،1971ء کے سانحہ سے قبل وہ حال بنگلہ دیش میں سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔جب پیپلزپارٹی کو موجودہ پاکستان کا اقتدار ملا تو وہ خوراک کے وزیر بنائے گئے، میں نے ان سے دریافت کیا کہ ان کا شعبہ اور دلچسپی تو تعلیم سے ہے، پھر خوراک کیوں؟ان کا استدلال تھا، شاید یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی شعبہ کے ماہر کو اسی شعبہ کی سربراہی/ وزارت دی جائے تو اس کے اپنے ذاتی تعصبات یا تحفظات کام میں آڑے آتے ہیں۔بہرحال اس وزارت میں ان کا گذر نہ ہوا کہ ترقی پسندانہ سوچ کے مالک تھے اور انہوں نے وزارت چھوڑ دی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان کو منا کر کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا تھا،ہماری دوستی تھی اور پیشہ ورانہ تعلقات بھی، چنانچہ کرکٹ سے دلچسپی برقرار رہی اور اتار چڑھاؤ کے بھی گواہ رہے، تب بھی سازش ہوتی دیکھتے رہے اِس لئے کرکٹ کے رموز سے شناسائی تو ہے۔

میں نے دو مختلف خبروں کا ذکر کیا۔ایک خبر یہ ہے کہ بورڈ میں کھچڑی پک رہی ہے کہ پھر سے ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کی سربراہی کسی ایک کھلاڑی کو دے دی جائے اور اس کے لئے ٹی20کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا پر نظریں گاڑھ لی گئی ہیں۔دوسری خبر خود سلمان علی آغا کا بیان ہے،جس میں انہوں نے صائم ایوب، حسن نواز، صاحبزادہ فرحان اور حارث کی تعریف کی کہ ان کو اُبھرتے نوجوان کھلاڑی اور دریافت قرار دیا، جبکہ لاہور قلندر کے نعیم کو نظرانداز کر دیا،جن کھلاڑیوں کا ذکر کیا ان میں سے دو کو تعلق ان کی پی ایس ایل ٹیم سے ہے، اس سے پی ایس ایل سے پہلے،اس کے دوران اور بعد کی کئی تبدیلیوں، تحفظات اور اقدامات بھی میرے ذہن میں شور مچانے لگے اور یکایک خیال آیا کہ کوئی بڑی قوت پاکستان کرکٹ کے در پے ہے اور یہ سلسلہ چودھری ذکاء اشرف کی سربراہی کے دور میں دبئی سے شروع ہوا۔جب انہوں نے بابر اعظم پر گروپنگ کا الزام لگایا اور دبے الفاظ میں فکسنگ کا شک بھی ظاہر کیا۔ان کے نشانے پر بابر اعظم سمیت آٹھ کھلاڑی تھے اور ان کو بابر گروپ قرار دیا گیا تھا، پھر ایکشن شروع ہوا اور بابر اعظم کو کپتانی سے فارغ کرا کے نئے تجربے کرائے گئے،جو اب تک کامیاب نہیں ہوئے۔ پی ایس ایل کے دوران ہی بتایا گیا کہ سلمان علی آغا اور شاداب خان(پرچی والے) مستقبل کے کپتان ہوں گے۔ پہلا مظاہرہ بنگلہ دیش کے خلاف کپتان اور نائب کپتان کی جوڑی بنی اور اب اس جوڑی کے لئے ترقی کی باتیں ہونے لگی ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ بابر اعظم، رضوان اور فخر زمان سمیت چند دوسرے کھلاڑی باہر ہوں گے اور اونٹ خیمے کے اندر،روک سکو تو روک لو۔ یہ تو ہو رہا ہے۔ کیا پاکستان کرکٹ یہ سب برداشت کرے گی کہ بنگلہ دیش کی اے ٹیم کے خلاف کلین سویپ کریڈٹ ہے؟ بنگلہ دیش سے قومی ٹیم تو آئی نہیں تھی، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟اس میں کیا شک ہے کہ کرکٹ میں پیسہ بہت اور ملک سے زیادہ اس کی قدر ہے،ملک کا نام تو اپنی عزت کے لئے لینا لازم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں