کسانوں کو 10 لاکھ روپے تک قرض کی سہولت کیلئے ایپ ’ذرخیزی‘ متعارف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)حکومت پاکستان کے فنانس ڈویژن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے اشتراک سے زرعی فنانسنگ کو ڈیجیٹل بنانے کیلئےجدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’ذرخیزی‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت کسان اب ایک ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے دس لاکھ روپے تک قرض کیلئےدرخواست دے سکیں گے۔

ذرخیزی ایپ کے ذریعے کسان ڈیجیٹل طور پر قرض کی درخواست جمع کرائیں گے، ضروری تصدیق کے بعد درخواست کسان کی پسند کے بینک کو پراسیسنگ کیلئےبھیج دی جائے گی۔ فنانسنگ کا 75 فیصد حصہ بینکوں کے منظور شدہ زرعی وینڈرز کے ذریعے زرعی سامان اور اشیا کی صورت میں فراہم کیا جائیگا۔

حکومتی بیان کے مطابق اس پلیٹ فارم کے تحت کسانوں کو لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے ذریعے زرعی مشاورت کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے معیاری زرعی اشیا اور جدید رہنمائی کے ذریعے پیداوار میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر حکومت نے 10 فیصد فرسٹ لاس کوریج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بینکوں کے واجب الادا قرض داروں میں خالص اضافے پر فی کس دس ہزار روپے آپریشنل لاگت سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ذرخیزی ایپ چھوٹے کسانوں کیلئے قرضوں تک رسائی کو آسان بنائیگی اور یہ اقدام قومی غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے حکومتی اہداف کے عین مطابق ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ قرض کے حصول کے عمل کو ڈیجیٹل بنا کر چھوٹے کسانوں کے لیے رکاوٹیں کم کی جا رہی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ رسمی قرضے بروقت اور آسانی سے دستیاب ہوں، جبکہ یہ ایپ دیہی معیشت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ بینکاری شعبہ ذرخیزی ایپ کے کامیاب نفاذ کے لیے پرعزم ہے اور وزارتِ خزانہ و اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ملک بھر کے کسانوں تک اس سہولت کی رسائی بڑھائی جائے گی، خصوصاً چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے لیے فنانس تک رسائی بہتر بنائی جائے گی۔

ذرخیزی ایپ گوگل پلے اسٹور پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، جبکہ کسان ڈیجیٹل آن بورڈنگ میں مدد کے لیے قریبی بینک برانچ سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔