ہماری معیشت میں زراعت کی حیثیت ریڑ ھ کی ہڈی جیسی ہے، پنجاب پاکستان کا دل ہے، جس کی 60 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے، اس کے سرسبز کھیت، فصلوں کی لہلہاہٹ، اور کسانوں کی محنت و مشقت پورے ملک کو خوراک مہیا کرتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہی کسان جس کے خون پسینے سے یہ زمین زرخیز ہوتی ہے، بدترین معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، خاص طور پر گندم کی کم قیمت اور پنجاب حکومت کی بے حسی نے کسان کو نہ صرف مالی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ان کے دلوں میں مایوسی اور محرومی کی آگ بھڑکا دی ہے جو ملک کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک طرف کھاد، بیج، زرعی ادویات اور پانی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،زرعی ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے اور زرعی پیداوار کی قیمتیں زمیں بوس ہو چکی ہیں، گندم جیسی بنیادی فصل کی فی من سرکاری قیمت اتنی کم رکھی گئی ہے کہ کسان کو لاگت نکالنا بھی مشکل ہو گیا ہے، اس کے برعکس، جب یہی گندم مارکیٹ میں آتی ہے تو آڑھتی، بیوپاری اور مل مالکان خوب منافع کماتے ہیں اور اصل محنت کش، یعنی کسان، ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ جب کسان کو اپنی گندم بیچنے کی باری آتی ہے تو اُسے یا تو پرچون نرخ پر فروخت کرنا پڑتی ہے یا پھر اپنے آپ کو کمیشن ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑتا ہے، کبھی وزن میں کمی کی شکایت، تو کبھی باردانہ نہ ہونے کا بہانہ کیا جاتا ہے، یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جو خود کو زرعی ملک کہلاتی ہے۔
کسان کا 4500 روپے فی من مطالبہ غیر حقیقت پسندانہ نہیں، جب کسان کھاد، بیج، پانی، ڈیزل، زرعی ادویات اور مزدوری کے اخراجات نکالتا ہے، تو فی من گندم کی پیداوار پر اس کی لاگت ہی تقریباً 4000 روپے سے تجاوز کر جاتی ہے، ایسے میں اس سے فی من کم قیمت رکھنا دراصل کسان کا معاشی قتل ہے،اس پر ستم ظریفی یہ کہ جب کسان اپنی فصل بیچ کر بازار سے آٹا خریدنے جاتا ہے تو اْسے مہنگا آٹا خریدنا پڑتا ہے، یعنی جو فصل اُس نے خود بوئی اور کاٹی،اُس کا فائدہ اسے ملا اور نہ ہی اُس کی محنت کا معاوضہ، درحقیقت، سارا فائدہ بیچ میں بیٹھے افراد اور ذخیرہ اندوزوں کو ہو رہا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو پنجاب حکومت کی سرد مہری اور غیر ذمہ داری ہے، جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو سبسڈی، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، سستے قرضے اور بہتر مارکیٹنگ سہولیات دے کر زراعت کو فروغ دے رہے ہیں، وہاں ہماری حکومت کسانوں کے مسائل سے نہ صرف آنکھیں چرا رہی ہے،بلکہ اسے مجبور کر رہی ہے کہ وہ کوئی اور کام کر لیں۔مسئلہ صرف گندم کا نہیں،بلکہ پورے زرعی نظام کا ہے، پنجاب کے دیہی علاقوں میں آج بھی کسانوں کی اکثریت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے محروم ہے، تحقیقاتی ادارے موثر کردار ادا کر رہے ہیں نہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً، کسان کا انحصار روایتی طریقوں پر ہے جو غیر موثر ہوتے جا رہے ہیں، زرعی قرضوں تک رسائی بھی صرف بڑے زمینداروں تک محدود ہے، جبکہ چھوٹے کسان یا تو آڑھتیوں سے قرض لیتے ہیں یا اپنی زمین گروی رکھ دیتے ہیں، حکومت کی اکثر کسان دوست سکیمیں صرف اشتہاروں تک محدود ہیں، عملی طور پر اْن سے کسان کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
جماعت اسلامی قابل تحسین ہے کہ اس نے کسان کی آواز کو بلند کیا ہے،اس سے پہلے کئی بار کسان تنظیموں نے بھی احتجاج کیے، مطالبات کے حق میں آواز بلند کی، سڑکیں بلاک کیں، مگر ان احتجاجوں کو الیکٹرانک میڈیا پر مناسب ٹائم ملا نہ حکومت نے ان پر کوئی سنجیدہ نوٹس نہ لیا، جب کسان کا مسئلہ خبروں میں نہیں آتا، تو حکومتی مشینری بھی اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسانوں میں ایک شدید احساسِ محرومی جنم لے رہا ہے، وہ خود کو ریاست کا حصہ نہیں، بلکہ ایک نظرانداز طبقہ سمجھنے لگے ہیں، یہ احساسِ محرومی اگر اجتماعی غصے میں بدل گیا تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔
میرے خیال میں کسانوں کے مسائل کو حل کیے بغیر پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، گندم کی قیمت کاازسر نو تعین کر کے حکومتی خریداری کی جائے تاکہ کسان کو منافع حاصل ہو،زرعی سبسڈی اور آسان قرضے بڑھائے جائیں، کسانوں کو کھاد، بیج، اور دیگر ضروری اشیاء پر سبسڈی دی جائے، جدید زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے آگاہ کیا جائے، کسان نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی اصل ضرورتوں کو سمجھا جا سکے۔
پنجاب کا کسان اگر آج پریشان رہا تو کل پاکستان کی معیشت بھی تباہی کے دہانے پر ہو گی، ایک ملک جو اپنی غذائی ضروریات کے لئے زراعت پر انحصار کرتا ہے، وہ اپنے کسان کو نظرانداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا، حکومت ہوش کے ناخن لے، کسان کی آواز سنے، اور عملی اقدامات کرے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب کسان نہ صرف اپنی فصلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گا،بلکہ ریاست سے بھی اپنا تعلق توڑ لے گا۔
پچھلے سالوں میں حکومت نے لاکھوں ٹن گندم بیرونِ ملک سے درآمد کی، حالانکہ اس وقت ملک میں مقامی کسان کی فصل تیار کھڑی تھی، گندم درآمد کرنے پر حکومت کا موقف تھا کہ ملک میں قلت ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقامی گندم نہ صرف وافر تھی بلکہ کسان اسے بیچنے کے لئے بھی تیار تھا، اگر حکومت کو واقعی قلت کا خدشہ تھا تو پہلے مرحلے پر مقامی کسان سے تمام دستیاب گندم خریدی جاتی، اور اگر پھر بھی قلت رہتی تو درآمد کی جاتی، لیکن حکومت نے بغیر مقامی صورتحال کا جائزہ لئے، بیرونِ ملک سے مہنگی گندم منگوا کر نہ صرف زرمبادلہ کا ضیاع کیا،بلکہ اپنے کسان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔
آج کا نوجوان کسان شدید مایوسی کا شکار ہے، کسانوں کے بچے جو پہلے اپنی زمینوں پر فخر کرتے تھے، اب وہ زراعت سے وابستہ ہونے کو بوجھ سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ زراعت کا صلہ کچھ نہیں، یہ سوچ خطرناک ہے، کیونکہ اگر نوجوان نسل زراعت سے منہ موڑ لے گی، تو مستقبل میں پاکستان کو غذائی خود کفالت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زراعت کو ایک قابلِ احترام اور منافع بخش پیشہ بنائے تاکہ نوجوان کسان فخر سے اس پیشے کو اپنائیں، نہ کہ مجبوری سے،زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو فعال بنایا جائے تاکہ وہ کسانوں کے ساتھ مل کر جدید اور سستے حل تلاش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کسانوں کو مارکیٹ تک براہ راست رسائی فراہم کی جائے تاکہ وہ بیوپاریوں کے استحصال سے بچ سکیں، وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف بیانات اور وقتی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے اور اس عظیم محنت کش کو اُس کا جائز حق دیا جائے، اگر ہم نے اب بھی کسان کو نظرانداز کیا تو نہ صرف گندم کی فصل کم ہو گی،بلکہ ملک قحط، بے روزگاری اور اقتصادی بدحالی کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔

