کمار سانو پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات: دوران حمل بھوکا رکھنے اور تشدد کا دعویٰ

ممبئی (انڈیا ٹوڈے)بولی ووڈ کے مشہور گلوکار کمار سانو کی سابق اہلیہ ریتا بھٹا چاریہ نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ گلوکار اور ان کے اہل خانہ نے انہیں نہ صرف ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ دورانِ حمل انہیں بھوکا رکھا گیا۔

’انڈیا ٹوڈے‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ریتا بھٹا چاریہ نے کہا کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں انہیں محض تشدد کا سامنا رہا، لیکن جیسے ہی کمار سانو شہرت کی بلندیوں پر پہنچے، ان کا رویہ مزید سخت اور نامناسب ہو گیا۔ ان کے مطابق انہیں گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی تھی۔

ریتا نے الزام لگایا کہ کمار سانو کی بہن اپنا خاندان چھوڑ کر ان کے گھر آ کر رہنے لگیں اور گلوکار کے ساتھ کمرہ شیئر کرتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ خود بچوں سمیت الگ کمرے میں سونے پر مجبور تھیں۔ ان کے بقول، انہیں دورانِ حمل کھانا نہیں دیا جاتا تھا، کچن کے شیلف تک لاک کر دیے جاتے تھے اور بچوں کے لیے دودھ بھی بند کر دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گلوکار روزانہ صرف 100 روپے دیتے اور بچوں کے علاج کے اخراجات تک پورے نہیں کرتے تھے۔ پڑوس کے دکانداروں اور ہوٹل والوں کو بھی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ انہیں کوئی سامان نہ دیں۔ ریتا نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے گھر سے چاول لا کر کھچڑی پکا کر گزارا کرتی تھیں۔

ریتا بھٹا چاریہ کے مطابق فلم ’عشقیہ‘ کی کامیابی کے بعد کمار سانو کے رویے میں مزید تبدیلی آئی اور ان کے معاشقے بھی منظرِ عام پر آنے لگے۔ بالآخر 1994 میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی، اس وقت ریتا تیسرے بچے کے حمل سے تھیں۔

یاد رہے کہ کمار سانو اور ریتا بھٹا چاریہ نے 1980 کی دہائی کے آخر میں پسند کی شادی کی تھی، بعد میں دونوں خاندانوں نے اس رشتے کو قبول کیا۔ دونوں کے تین بچے ہیں۔ شادی کے دوران ہی کمار سانو پر اداکارہ کنیکا سدانند کے ساتھ تعلقات کے الزامات بھی لگے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں