کوئٹہ: باپ نے بیٹی اور بھانجے کوغیرت کے نام پر قتل کر دیا

کوئٹہ(نمائندہ خصوصی)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ پر غیرت کے نام پر قتل کا ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک باپ نے اپنی بیٹی اور بھانجے کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق، سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) شالکوٹ اطہر رشید نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم عبد اللطیف نے فائرنگ کر کے اپنی بیٹی نازنین اور بھانجے غلام قادر کو قتل کیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس کے مطابق، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئےہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ضابطے کی کارروائی کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیچی بیگ تھانے کی ٹیم ملزم کی گرفتاری کیلئےمختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی اسے گرفتار کر لیا جائیگا۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بھی کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر ایک اور واقعہ پیش آیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں ایک مرد اور عورت کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا، جن پر مبینہ طور پر پسند کی شادی کا الزام لگایا گیا تھا۔

تاہم، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ قتل ہونے والے دونوں افراد پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی تھے، اور ان کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا۔

اس واقعے کے مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں ستکزئی قبیلے کے سربراہ شیرباز ستکزئی، ان کے چار بھائی اور دو محافظ شامل ہیں۔ واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جبکہ عدالت نے شیرباز ستکزئی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کر لیا تھا۔

بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر معاشرتی اور قانونی نظام پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی ایسے واقعات کی روک تھام کیلئےمؤثر قانون سازی اور اس کے سخت نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں