کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی)بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے اپنی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے مقدمات کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے بجائے کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں سماعت کو ’ریاستی جبر کا منظم مظاہرہ‘ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے کی تازہ سماعت ہفتے کے روز کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں ہوئی، جس کی صدارت انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1 کے جج محمد علی مبین نے کی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ، بیبو بلوچ، بیبرگ بلوچ اور گل زادی بلوچ کے عدالتی ریمانڈ میں مزید 10 دن کی توسیع کر دی گئی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے وکیل اسرار بلوچ نے گفتگو میں تصدیق کی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ان کی قانونی ٹیم کو جیل طلب کیا گیا، جہاں سماعت منعقد ہوئی۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن چالان جمع نہیں کرا سکا، جس کے باعث فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت نے کارروائی 18 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سماعتوں کو جیل میں منتقل کرنے کا مقصد شفافیت کو دبانا، عوامی نگرانی کو روکنا اور بلوچستان میں پرامن سیاسی اختلاف کو جرم قرار دینا ہے۔ کمیٹی کے مطابق عدالتی کارروائی کو جیل کی دیواروں میں محدود کر کے ریاست نے خاندانوں، صحافیوں اور مبصرین کو سماعت دیکھنے سے روک دیا، جو آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو 22 مارچ کو کوئٹہ سول اسپتال پر حملے اور عوام کو تشدد پر اکسانے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں “مینٹیننس آف پبلک آرڈر” (ایم پی او) کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا، جس میں متعدد مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔
جون میں تین ماہ مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے ایک اور حکم نامے کے ذریعے ان کی حراست میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی۔ بعد ازاں ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کیے گئے۔

